Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
293 - 329
 یہ انقلاب میری زندگی میں رونما ہوا کہ بدنگاہی کی مرتکب میری آنکھوں پر حیا کا قفلِ مدینہ لگ گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  اساتذہ کی شفقت و تربیت کی برکت سے میں دل جمعی کے ساتھ قرآنِ پاک حفظ کرنے میں مشغول ہوگیا، آخر شب روز کی کوششیں رنگ لائیں اور میں عَزَّ وَجَلَّ 5ماہ کے قلیل عر صے میں مکمل حافظِ قرآن بن گیا ۔
(4) پورا گھرانہ سنتوں کا گہوارہ بن گیا
	ضلع گجرات (پنجاب پاکستان) کے ایک اسلامی بھائی کی تحریر کا خلاصہ ہے کہ ہمارا گھرانہ بد عملی کا شکا رتھا، کوئی فرد نماز نہ پڑھتا جس کی نحوست سے ایک عجب ماحول رہتا، ہر وقت فلموں ڈراموں کا شور وغل تھمنے کا نام نہ لیتا، کسی کو اپنی آخرت کی فکر تھی نہ یہ پروا کہ اسے مرنا اور اندھیری قبر میں اتر کر اپنی بد اعمالیوں کا خمیازہ بھگتنا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب گھر کے بڑے ہی نمازوں اور نیکی کے کاموں سے دور ہوں تو چھوٹوں کی اصلاح بہت بعید ہے، میری قسمت اچھی تھی کہ دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بھائی کی ترغیب پر میں نے مدرسۃ المدینہ میں داخلہ لے لیا۔ اساتذہ کی اصلاح پر مبنی تربیت اور باعمل طلباء کی صحبت کی برکت سے سنّتوں پر عمل کرنے کا جذبہ میرے دل میں پیدا ہوا اور میں نے نمازوں کی پابندی شروع کردی، اس کی برکت سے سب گھر والے میرے اخلاق وکردار سے متاثر ہونے لگے اور میری دیکھا دیکھی باقی گھر والوں نے بھی نماز پڑھنا شروع کردی۔ والد صاحب نے داڑھی شریف سجالی، گھر کا گناہوں بھرا ماحول رخصت ہوگیا اور اب فلموں ڈراموں کی جگہ نعتِ مصطفٰے اور امیر اہلسنّت کے بیانات نے لے لی۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  یوں مدرسۃ المدینہ میں ہونے والی میری اخلاقی تربیت کی برکت سے میرا پورا گھرانہ سنّتوں کا گہوارہ بن گیا اور سب لوگ دامنِ عطا ر سے بھی وابستہ ہو گئے۔
(5) مدرسے میں دیکھ بھال کر داخلہ لیجئے
	با ب المدینہ (کراچی) کے علاقہ رنچھوڑ لائن کے ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ میں بدمذہبوں کے ایک ادارے میں پڑھتا تھا ان سے نجات کی صورت کچھ یوں بنی کہ ایک مرتبہ   ماہِ ربیع الاول کی مبارک ساعتوں میں جب