وباطن معطر ومعنبر ہونے لگا۔ مدرسۃ المدینہ کی پر نور فضاؤں میں آنے سے قبل میری زندگی کے شب روز برے دوستوں کے ساتھ مختلف شرارتیں کرتے گزرتے اور اب قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے ہوئے بسر ہونے لگے، کھیل کود اور برے دوستوں سے دل اُچاٹ ہوگیا، دِل میں خوفِ خدا و عِشْقِ مصطفٰے کی شمع کیا فروزاں ہوئی مجھے علم دین سے پیار ہوگیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ دل میں ایک سوز وگداز کی کیفیت محسوس کرنے لگا، میری وجہ سے ہمیشہ دوسروں کی آنکھوں میں پانی رہتا مگر کبھی میری آنکھوں نے آنسوؤں کا ذائقہ نہ چکھا تھا اب یہی آنکھیں خوفِ خدا کے باعث اشکباری کی چاشنی سے ایسی آشنا ہوئیں کہ بس اس انتظار میں رہتی ہیں کہ کب انہیں برسنے کا کوئی موقع ملے، روزانہ فکرِ مدینہ کا کارڈ پر کرنے سے میری بے ہودہ فکریں دور ہو گئیں ، میری آوارہ سوچ کو ٹھکانا مل گیا اور میں سنّتوں کا عامل بن گیا۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ یہ سب مدرسۃ المدینہ کے سنّتوں بھرے مدنی ماحول کا فیضان ہے کہ جس نے مجھے قبر وآخرت کی تیاری کرنے والے خوش نصیب عاشقانِ رسول کی فہرست میں شامل کر دیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ تادم تحریر جامعۃالمدینہ میں درسِ نظامی (عالم کورس) کی سعادت پارہاہوں ۔
(3) آنکھوں پر حیا کا قفلِ مدینہ لگ گیا
باب المدینہ (کراچی) کے علاقے لانڈھی کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کا لب لباب ہے کہ مدنی ماحول سے وابستگی سے قبل میں ہر روز نت نئے فیشن اپنانے اور بدنگاہی و بے حیائی کے ریکارڈ بنانے میں مصروف رہتا۔ نمازوں کی پابندی کا تو کبھی سوچا بھی نہ تھا، یونہی دن رات گناہوں کی دلدل میں دھنستا جارہا تھا کہ میری سعادتوں کا سفر شروع ہوا اور میں مدنی ماحول سے وابستہ اپنے ایک ہم جماعت دوست کی ترغیب پر گاہے گاہے نماز پڑھنے لگا، مزید انفرادی کوشش پر میں مدرسۃ المدینہ میں داخلہ لے کر نورِ قرآن سے منور ہونے والے خوش نصیب طلباء میں شامل ہوگیا۔ یہاں کے روح پرور سنّتوں بھرے مدنی ماحول کا مدنی رنگ مجھ پر چڑھنے لگا، عمامہ شریف کا تاج اور سفید مدنی لباس گویا کہ میرے بدن کا حصہ بن گیا، نمازوں کی پابندی کے ساتھ ساتھ تہجد کی سعادت بھی پانے لگا اور سب سے بڑھ کر