Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
291 - 329
 اَخلاق وکردار اور اساتذہ کی سنّتوں بھری تربیت کی برکت سے میرے معمولاتِ زندگی میں حیرت انگیز تبدیلیاں رونما ہونے لگیں ۔ اخلاق وکردار میں ایک نکھار آگیا، نمازوں کا پابند بن گیا، والدین کی پہلے ایک نہ سنتا تھا اور اب والدین کی قدم بوسی کی سعادت پانے والے خوش نصیبوں میں شامل ہوگیا۔ کل تک والدین اور اہل محلہ میری بری خصلتوں کی وجہ سے بیزار نظر آتے تھے آج میرے اخلاق وکردار کی تعریفیں کرنے لگے۔ یہ سب مدرسۃ المدینہ میں ہونے والی تربیت کی برکت تھی کہ میں کچھ ہی دنوں میں گھر اور محلہ والوں کی آنکھوں کا تارا بن گیا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  تادمِ تحریر حلقہ مشاورت ذمہ دارکی حیثیت سے سنتوں کی خدمت کے لیے کوشاں ہوں ۔
(2) آوارہ سوچ کو ٹھکانا مل گیا 
مدینۃ الاولیا (ملتان شریف پنجاب پاکستان) کی بستی ہائے والا کے ایک اسلامی بھائی کے بیان کا خلاصہ ہے کہ مَیں بچپن میں بُری صحبت کی وجہ سے گناہوں کی تاریک وادیوں میں بھٹک رہا تھا، بُرے دوستوں کی سنگت نے میرے اخلاق وکردار کو تباہ کردیا تھا، فلم بینی کا اس قدر شائق تھا کہ فلم دیکھے بغیر چَین آتا نہ وَقْت گزرتا۔ میرے اعمال کی وجہ سے دوسروں کی دل آزاری ہو یا مال کی بربادی مجھے کچھ پروا نہ تھی، اس گناہوں بھری زندگی پر کوئی ندامت تھی نہ کوئی افسوس۔ نفس وشیطان کے اشاروں پر زندگی کے شب و روز پَر لگائے گزر رہے تھے۔ شاید غفلت، کھیل کود اور ہنسی مذاق میں دوسروں کی کھانے پینے والی اشیاء پر ہاتھ صاف کرتے ہوئے زندگی یونہی تمام ہوجاتی کہ ایک دن مجھ پر میرے رب کا خاص کرم ہوگیا سبب کچھ یوں بنا کہ دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ایک اسلامی بھائی نے والد صاحب پر انفردی کوشش کی کہ آپ اپنے صاحبزادے کو مدرسۃ المدینہ میں داخل کروا دیں ۔ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اس کے اخلاق وکردار بہتر ہوجائیں گے۔ والد محترم ہاتھوں ہاتھ تیار ہوگئے اور میری اصلاح کے جذبے کے تحت مجھے مدرسۃ المدینہ میں داخل کروا دیا۔ میرے لیے یہ ایک انوکھا ماحول تھا، بالخصوص مدنی منوں کے عمدہ اخلاق اور اچھی عادات سے میں متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ الغرض یہاں کے سنّتوں بھرے مدنی ماحول کی خوشبوؤں سے میرا ظاہر