دعوت اسلامی کی مدنی بہاریں
(1) دعائے مدینہ کی برکت
مرکز الاولیاء (لاہور، پاکستان) کے مقیم ایک اسلامی بھائی اپنی توبہ کا تذکرہ کرتے ہیں کہ میں دعوتِ اسلامی کے مُشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہونے سے قبل بہت بگڑا ہوا انسان تھا۔ لڑائی جھگڑا مول لینا، دوسروں کو بلاوجہ تنگ کرنا میرا پسندیدہ کام تھا۔ میری بری عادتوں کی وجہ سے میرے گھر والے اور اہل محلّہ سب ہی پریشان تھے مگر مجھے کسی کی کوئی پروا نہ تھی یہاں تک کہ والدین کی بات بھی نہ سنتا تھا۔ آج کے اس پر فتن دور کے آوارہ لڑکوں کی طرح قبر وآخرت سے غافل ہوکر بس اپنی موج مستی میں مگن انمول زندگی کو بے مقصد ضائع کر رہا تھا کہ ایک دن مسجد کے پاس سے گزرتے ہوئے پیاس کی شدت مجھے مسجد میں لے گئی۔ میرا مسجد میں جانا میری زندگی میں ایک عظیم انقلاب برپا کر گیا، میری پیاس کی شدت تو ختم ہو گئی مگر میں رحمتِ خداوندی کی چھماچھم برسات میں بھیگ کر ہمیشہ کے لیے کرمِ خداوندی کا پیاسا ہو گیا، ہوا کچھ یوں کہ پانی پیتے ہوئے اچانک ایک پرسوز آواز میرے کانوں کے پردوں سے ٹکرائی کوئی بارگاہِ خداوندی میں یوں دعا کر رہا تھا: اللہ مجھے حافظِ قرآن بنادے۔ یہ الفاظ تھے یا ترکش سے نکلے ہوئے تیر جو میرے سینے میں پیوست ہوتے گئے، عالم شعور میں اک محشر برپا ہوگیا، مجھے اپنی بری عادات کی وجہ سے گویا عذابِ خداوندی آنکھوں کے سامنے نظر آنے لگا، بالآخر ندامت کے آنسوؤں کی برسات نے دل کی سیاہی دھونا شروع کی تو ضمیر کی وادیوں سے یہ صدا بلند ہوئی اب مجھے اپنی بری عادات سے جان چھڑا لینا چاہئے۔ میں نے وہیں پختہ ارادہ کر لیا کہ مجھے بھی حافظِ قرآن بننا ہے۔ چنانچہ یہ نیک جذبات لیے گھر پہنچا اور والدین کی خدمت میں اپنی اس نیک آرزو کا اظہار کیا توانہیں یقین نہ آیا ، شاید اسی وجہ سے بخوشی اجازت دینے کے بجائے صاف صاف انکا ر کر دیا۔ مجھے بے حد افسوس ہوا لیکن میں نے کوشش جاری رکھی اور بالآخر بڑی مشکل سے مان گئے اور مجھے تبلیغِ قرآن و سنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدرسۃ المدینہ میں داخلہ دلا دیا۔ اب میں روزانہ ذوق وشوق سے پڑھنے لگا۔ یہاں آکر اصل زندگی کا احساس ہوا طلباء کے