Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
29 - 329
جواب …:   اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کی کسی صفت میں کسی مخلوق کو شریک کرنایا اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کی صفات کی طرح کسی اور میں وہی صفات ماننا شرک ہے۔جیسے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ہمیشہ سے ہے اسی طرح کسی اور کے لیے یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ اللہ تعالٰی کی طرح ہمیشہ سے ہے۔ یا  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  ذاتی طور پر سننے والا ہے کسی اور کے لیے ذاتی طور پر سننے کا عقیدہ رکھنا صفات میں شرک ہے۔ یاد رکھئے! قرآنِ مجید اور احادیثِ مبارکہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ   کی بعض صفات انبیائے کرام عَلَیہِمُ السَّلام، اولیائے عِظام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلام نیز عام بندوں کے لیے بھی ذکر کی گئی ہیں جیسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ   اپنی دو صفات ذکر فرماتاہے:  اِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ)۷)(پ۱۴،النحل: ۷) دوسرے مقام پراپنے پیارے محبوبصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے یہی صفات ذکر فرمائیں:  رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ)۱۲۸) (پ۱۱، التوبۃ: ۱۲۸)یہ ہرگز ہرگز شرک نہیں کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی صفات ذاتی، لامحدود اور قدیم یعنی کسی کی پیدا کردہ نہیں بلکہ ہمیشہ سے ہیں اور ہمیشہ رہیں گی جبکہ رَسُوْلُ ﷲ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم    کی صفات عطائی یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا کردہ ، محدود اور حادِث (یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پیدا کردہ)ہیں ۔ایک اور مقام پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ   اپنی صفات ذکر فرماتا ہے:  اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ)۱) (پ۱۵،بنی اسرائیل: ۱) یہی دو صفات بندوں کے لیےیوں ذکر فرمائی:  فَجَعَلْنٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا)۲) (پ۲۹،الدھر: ۲)یہ بھی یقیناًصفات میں شرک نہیں کیونکہ بندوں کی صفات عطائی،محدود اور حادِث ہیں ۔اس فرق کے ہوتے ہوئے شرک لازم نہیں آتا۔       
اَسما میں شرک سے مراد
سوال …:  	اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کے اَسما یعنی ناموں میں شرک سے کیا مراد ہے؟
جواب …:  	 اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کے اَسمایعنی ناموں میں کسی مخلوق کو شریک کرنااَسما میں شرک ہے۔ جیسے کسی اورکو اللہ کہنا۔ آیتِ مبارکہ  هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠)۶۵) (پ۱۶، مریم: ۶۵) ترجمۂ کنز الایمان :  کیا اس کے نام کا دوسرا جانتے ہو۔ کے تحت خزائن العرفان میں ہے: یعنی کسی کو اس کے ساتھ اِسمی شرکت بھی نہیں اور اُس کی وحدانیت اتنی ظاہر ہے کہ مشرکین نے بھی اپنے کسی معبودِ باطل کا نام اللہ نہیں رکھا ۔