Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
289 - 329
اس مدنی تحریک نے ہر خاص و عام کے سینے میں یہ عظیم جذبہ بیدار کر دیا ہے کہ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  چنانچہ اس مقصد کی تکمیل اور نیکی کی دعوت عام کرنے کے لئے دعوتِ اسلامی کے تحت بے شمار مدنی قافلے راہِ خدا میں گھرگھر،  شہر بہ شہر، گاؤں بہ گاؤں، ملک بہ ملک سفر کرکے بے نمازیوں کو نماز کی، غافلوں کو بیداری کی، جاہلوں کو علم و معرفت کی، فاسقوں کو تقویٰ کی، بروں کو بھلائی کی اور غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے میں مصروفِ عمل ہيں۔
سُبْحَانَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  !  وہ لوگ کس قدر خوش نصیب ہیں جو اپنے مسلمان بھائیوں کو نیکی کی دعوت دیتے ہیں ۔ ان خوش نصیبوں کے لئے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  قرآن مجید میں ارشاد فرماتاہے:  
 وَ مَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنۡ دَعَاۤ اِلَی اللہِ وَ عَمِلَ صَالِحًا وَّ قَالَ اِنَّنِیۡ مِنَ الْمُسْلِمِیۡنَ)۳۳( (پ ۲۴، حم السجدۃ:  ۳۳) 
ترجمۂ کنز الایمان:  اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے اور کہے میں مسلمان ہوں ۔ 
جب کوئی مسلمان نیکی کی دعوت دیتاہے تو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی رحمت جوش میں آجاتی ہے ۔ چنانچہ امام غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کی:  اے اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  !  جو اپنے بھائی کو بلائے اسے نیکی کا حکم کرے اور برائی سے منع کرے اس کی جزا کیا ہے؟ فرمایا:  میں اس کی ہر بات کے بدلے ایک سال کی عبادت کا ثواب لکھتا ہوں اور اسے جہنم کی سزا دیتے ہوئے مجھے حیا آتی ہے۔(1)
نیکی کی دعوت عام کرنے کے اس سچے جذبے کے تحت امیر اہلسنت نے اپنے مریدین، محبین، متعلقین اور اپنی پیاری تحریک دعوت اسلامی کو ایک مدنی مقصد عطا فرمایا ہے:  
مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔ اِنْ شَآءَ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  
آئیے ہم سب دعوت اسلامی کے ساتھ مل کر ساری دنیا میں نیکی کی دعوت پہنچانے کا عزم کریں ۔ 
٭…٭…٭



________________________________
1 -    مكاشفة القلوب،   الباب الخامس عشر فی الامر بالمعروف    الخ،   ص۴۸