نیکی کی دعوت
فرمانِ باری تَعَالٰی ہے:
خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِؕ- (پ ۳، ال عمران: ۱۱۰ )
ترجمۂ کنز الایمان: تم بہتر ہو اُن سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔
پیارے مدنی منو! دیکھا آپ نے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ہمیں سابقہ تمام امتوں میں بہتر امت ارشاد فرمایا ہے مگر یاد رکھیں ہمیں بہتر امت اس لئے نہیں کہا کہ اس امت میں بڑے بڑے انجینئر، ڈاکٹرز، دانشور اور دولت مند ہوں گے۔ نہیں نہیں بلکہ ہم کو تو بہتر امت اس لئے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ امت آپس میں نیکی کی دعوت دیتی ہے یعنی اچھی بات کا حکم کرتی اور بری بات سے منع کرتی ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہر دور میں ایک ایسا بندہ پیدا فرماتا ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عطا سے نیکی کی دعوت کی دھوم مچاتا ہے، انہیں نیک بندوں میں ایک نام شیخ طریقت، امیر اہلسنت بانی دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا بھی ہے۔ آپ نے ذوالقعدۃ الحرام ۱۴۰۱ھ بمطابق ستمبر عَزَّ وَجَلَّ 981ء میں نیکی کی دعوت کی دھوم مچانے کے عظیم مقصد کے تحت غیر سیاسی تحریک ’’ دعوتِ اسلامی ‘‘ کی بنیاد رکھی اور دیکھتے ہی دیکھتے نیکی کی دعوت کی یہ عظیم تحریک دنیا کے عَزَّ وَجَلَّ 72سے زائد ممالک میں پھیل چکی ہے۔