بُغض و کینہ
جب انسان کو غصہ آئے اور وہ اسے نافذ کرنے پر قدرت نہ پانے کی وجہ سے پی لے تو وہ غصہ دل میں بیٹھ کر بغض یعنی نفرت اور کینہ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ پھر اس بغض و کینہ کے نتائج یہ مرتب ہوتے ہيں کہ بندہ اپنے مغضوب (یعنی جس پر غصہ آیا اس) سے حسد کرنے لگتا ہے یعنی اس سے نعمت کے زوال کی تمنا کر کے اس نعمت سے خود نفع اٹھانا چاہتا ہے یا اس کی پریشانی پر خوشی کا اظہار کرتا ہے۔ اس سے اپنا تعلق ختم کر لیتا ہے۔ اگر وہ اِس کے پاس کسی ضرورت کے تحت آ جائے تو اِس کی زبان اس کے بارے میں حرام کی مرتکب ہوتی ہے اور وہ اُس کا مذاق اڑاتا، مسخری کرتا اور دل آزاری کا باعث بنتا ہے۔ یہ تمام کام سخت گناہ اور حرام ہیں ۔
بچوں کو چونکہ دلی خیالات کے اچھے یا برُے ہونے کا علم نہیں ہوتا اس لئے دل میں جو آتا ہے کرتے چلے جاتے ہیں اور دوسرے پر اپنے دلی جذبات کا اظہار بھی کر دیتے ہیں ۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ ان کے دل میں کسی کا بغض یعنی کسی کی نفرت پائی جائے۔ مگر بغض و کینہ چونکہ اچھی چیز نہیں اس لئے بچوں کو اس سے متعلق بھی معلومات ہونا ضروری ہیں ۔ چنانچہ مَحبوبِ رَبُّ العزت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: مومن کینہ پرور نہیں ہوتا۔(1)
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: بندوں کے اعمال ہر ہفتہ میں دو مرتبہ (بارگاہِ خداوندی میں ) پیش کئے جاتے ہیں ، پیر اور جمعرات کو۔ پس ہر بندے کی مغفرت ہو جاتی ہے سوائے اس کے جو اپنے کسی مسلمان بھائی سے بغض وکینہ رکھتا ہے، اس کے متعلق حکم دیا جاتا ہے کہ ان دونوں کو چھوڑے رہو (یعنی فرشتے ان کے گناہوں کو نہ مٹائیں ) یہاں تک کہ وہ آپس کی عداوت سے باز آجائیں ۔(2)
٭…٭…٭
________________________________
1 - کشف الخفاء، ۲ / ۲۶۲، حدیث:۲۶۸۴
2 - مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب النھی عن الشحناء والتھاجر، ص۱۳۸۷ ، حدیث: ۳۶ - (۲۵۶۵)