Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
281 - 329
پارہ 30 سورۃ الفلق کی آیت نمبر 5میں ہے: 
وَ مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ۠(۵) (پ۳۰، الفلق: ۵)
ترجمۂ کنز الایمان:  اور حسد والے کے شر سے جب وہ مجھ سے جلے ۔
حسد کے متعلق فرامینِ مصطفٰے
(1)… حسد ایمان کو اس طرح خراب کردیتاہے جس طرح ایلوا (یعنی ایک کڑوے درخت کا جما ہوا رَس) شہد کو خراب کر دیتا ہے۔(1)
(2)… حسد سے بچتے رہو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کوکھا جاتی ہے۔(2)
(3)… حسد کرنے والے، چغلی کھانے والے اور کاہن کے پاس جانے والے کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی میرا ان سے کوئی تعلق ہے ۔(3)
(4)… لوگ جب تک آپس میں حسد نہ کريں گے ہمیشہ بھلائی پررہیں گے۔(4)
(5)… ابلیس (اپنے چيلوں سے) کہتا ہے:  انسانوں سے ظلم اور حسد کے اعمال کراؤ کیونکہ یہ دونوں عمل اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کے نزدیک شرک کے برابر ہیں ۔(5)
(6)… اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی نعمتوں کے بھی دشمن ہوتے ہیں ۔ عرض کی گئی:  وہ کون ہیں ؟ ارشاد فرمایا:  وہ جو لوگوں سے اس لئے حسد کرتے ہیں کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے اپنے فضل وکرم سے اُن کو نعمتیں عطا فرمائی ہيں ۔(6)



________________________________
1 -    کنزالعمال،   کتاب الاخلاق،   الجزء الثالث،   ۲ / ۱۸۶،   حدیث:۷۴۳۷
2 -    ابو داود،   کتاب الادب،   باب فی حسد،   ۴ / ۳۶۰،   حدیث:۴۹۰۳
3 -    مجمع الزوائد،   کتاب الادب،   باب ماجاء فی الغیبۃ والنمیمۃ،   ۸ / ۱۷۲،   حدیث:۱۳۱۲۶ 
4 -    المعجم الکبیر،   ۸ / ۳۰۹،   حدیث:۸۱۵۷
5 -    جامع الاحادیث،   ۳ / ۶۰،   حدیث:۷۲۶۹
6 -    شعب الایمان ، باب فی الحث علی ترک الغل والحسد،   الحدیث تحت الباب،   ۵ / ۲۶۳