حسد
حسد کی تعریف
یہ تمنا کرنا کہ کسی کی نعمت اس سے زائل ہوکر مجھے مل جائے حسد کہلاتاہے۔ (1) یعنی کسی کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر تمنّا کرنا کہ کاش ! اِس سے یہ نعمت چِھن کر مجھے حاصِل ہو جائے حسد ہے۔ مَثَلاً کسی کی شہرت یا عزّت سے نفرت کا جذبہ رکھتے ہوئے خواہِش کرنا کہ یہ کسی طرح ذلیل ہو جائے اوراس کی جگہ مجھے عزّت کا مقام حاصِل ہو جائے، نیز کسی مالدار سے جَل کر یہ تمنّا کرنا کہ اِس کا کسی طرح نقصان ہو جائے اور یہ غریب ہو جائے اور میں اس کی جگہ پر دولت مند بن جاؤں ۔اس طرح کی تمنا کرنا حَسَد ہے۔
حسد کا شرعی حکم
حسد کرنا بالاتفاق حرام ہے۔(2) لیکن اگر یہ تمنا ہے کہ وہ خوبی مجھے بھی مل جائے اور اسے بھی حاصل رہے رشک کہلاتا ہے اور یہ جائز ہے ۔
حسد کے متعلق فرامینِ باری تعالٰی
جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نبوّت کے وسیلہ سے اہلِ ایمان کو نصرت و غلبہ و عزت وغیرہ نعمتوں سے سرفراز فرمایا تو یہودی ان سےحسد کرنےلگے۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے پارہ 5 سورۃ النساء کی آیت نمبر 54میں یہودیوں کے متعلق ارشاد فرمایا:
یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۚ- (پ۵، النسآء: ۵۴)
ترجمۂ کنز الایمان: یا لوگوں سے حسد کرتے ہیں اس پر جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دیا۔
________________________________
1 - بہارِ شریعت، بغض و حسد کا بیان، ۱ / ۵۴۲ ماخوذاً
2 - المرجع السابق