توحیدِ باری تَعَالٰی کے متعلق چند عقائد اور ان کی وضاحت
توحید سے مراد
سوال …: توحید سے کیا مراد ہے؟
جواب …: توحید سے مراد اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وحدانیت کو ماننا ہے یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایک ہے اور کوئی بھی اس کا شریک نہیں ، نہ ذات میں نہ صفات میں ، نہ اَسما (ناموں ) میں ، نہ افعال (کاموں ) میں اور نہ ہی احکام میں ۔
سوال …: اگر کوئی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات و صفات، اسما و افعال اور احکام میں سے کسی ایک میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شریک مانے تو اسے کیا کہتے ہیں ؟
جواب …: اگر کوئی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات و صفات، اسما و افعال اور احکام میں سے کسی ایک میں بھی کسی کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شریک مانے تو اسے مشرک و کافر کہتے ہیں ۔
ذات میں شرک سے مراد
سوال …: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات میں شرک سے کیا مراد ہے؟
جواب …: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات میں شرک سے مراد یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کسی اور کو بھی خدا مانا جائے، حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ، اس لیے کہ اگر کوئی اور خدا بھی ہوتا تو یہ نظامِ زندگی برباد ہو جاتا۔ جیساکہ قرآن مجید میں ہے: لَوْ كَانَ فِیْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَاۚ (پ۱۷، الانبیآء: ۲۲) ترجمۂ کنز الایمان: اگر آسمان و زمین میں اللہ کے سوا اور خدا ہوتےتو ضرور وہ تباہ ہو جاتے۔
صفات میں شرک سے مراد
سوال …: اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی صفات میں شرک سے کیا مراد ہے؟