چُغْلی
لوگوں میں فساد ڈالنے کیلئے ایک کی بات دوسرے کو بتانا چغلی ہے۔ چغلی کرنا حرام ہے۔(1) چنانچہ چغل خور ی کی مذمت بیان کرتے ہوئے رب تَعَالٰی ارشاد فرماتا ہے:
وَ لَا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَّهِیْنٍۙ(۱۰)هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیْمٍۙ(۱۱) (پ۲۹، القلم: ۱۰، ۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان: اورہرایسے کی بات نہ سننا جو بڑا قسمیں کھانے والا ذلیل بہت طعنے دینے والا بہت ادھر کی ادھر لگاتا پھر نے والا۔
چغلی کے متعلق پانچ فرامینِ مصطفٰے
(1)… چغل خور اور دوستوں میں جدائی ڈالنے والے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نزدیک سب سے بد ترین لوگ ہیں ۔(2)
(2)… میرے نزدیک سب سے ناپسند یدہ لوگ چغل خور ہیں جو دوستو ں کے درمیان جدائی ڈالتے اور پاکدامن لوگو ں میں عیب ڈھونڈتے ہیں ۔(3)
(3)… لَایَدْخُلُ الْـجَنَّةَ قَتَّات ۔یعنی چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔(4)
(4)…غیبت کرنے والوں ، چغل خوروں اور پاکباز لوگوں پر عیب لگانے والوں کا حشر کتوں کی صورت میں ہوگا۔(5)
(5)… جو لوگوں میں چغل خوری کرتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لیے آگ کے جوتے بنائے گا جن سے اس کا دماغ کھولتا رہے گا۔(6)
٭…٭…٭
________________________________
1 - حدیقہ ندیہ، ۲ / ۴۲۷
2 - مسند احمد، ۶ / ۲۹۱، حدیث: ۱۸۰۲۰
3 - مجمع الزوائد ، کتاب الادب، باب ماجاء فی حسن الخلق، ۸ / ۴۷، حدیث: ۱۲۶۶۸
4 - بخاری ، کتاب الادب ، باب مایکرہ من النمیمۃ ، ۴ / ۱۱۵، حدیث: ۶۰۵۶
5 - الترغیب والترھیب ، کتاب الادب وغیرہ، باب الترھیب من النمیمۃ، ۳ / ۳۲۵، حدیث: ۱۰
6 - تنزیہ الشریعۃ ، کتاب الادب والزھد، الفصل الثالث، ۲ / ۳۱۳، حدیث: ۱۰۱