رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے (غَیب کی خبر دیتے ہوئے) ارشاد فرمایا: اُن دونوں نے روزہ نہیں رکھا وہ کیسی روزہ دار ہیں وہ تَو سارا دن لوگوں کا گوشت کھاتی رہیں ! جاؤ، ان دونوں کو حُکْم دو کہ وہ اگر روزہ دار ہیں تَو قَے کردیں ۔ وہ صَحابی اُن کے پاس تشریف لائے اور انہیں فرمانِ شاہی سُنایا۔ اِن دونوں نے قَے کی تَو قَے سے جما ہوا خُون نِکلا۔ اُن صَحابی نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدمتِ بابَرَکت میں واپَس حاضِر ہو کر صُورتِ حال عَرض کی۔ مَدَنی آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اُس ذات کی قَسم ! جس کے قَبضۂ قُدرت میں میری جان ہے! اگر یہ اُن کے پیٹوں میں باقی رہتا تَو اُن دونوں کوآگ کھاتی۔ (کیوں کہ انہوں نے غِیبت کی تھی)(1)
ایک رِوایَت میں ہے کہ جب سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان صَحابی سے مُنہ پھیرا تَو وہ سامنے آئے اور عَرض کی: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! وہ دونوں پیاس کی شدت سے مَرنے کے قریب ہیں ۔ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حُکم فرمایا: اُن دونوں کو میرے پاس لاؤ۔ وہ دونوں حاضِر ہوئیں ۔ سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک پِیالہ منگوایا اور اُن میں سے ایک کو حُکْم فرمایا: اِس میں قَے کرو! اُس نے خون، پِیپ اور گوشت کی قَے کی، حتّٰی کہ آدھاپیالہ بھر گیا۔پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دُوسری کو حُکْم دیا کہ تم بھی اِس میں قَے کرو! اُس نے بھی اِسی طرح کی قَے کی،یہاں تک کہ پیالہ بھر گیا اللہ کے پیارے رسولصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اِن دونوں نے اللہ کی حَلال کردہ چیزوں (یعنی کھانے، پینے وغیرہ) سے تَو روزہ رکھا مگر جن چیزوں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے (عِلاوہ روزے کے بھی) حرام رکھا ہے ان (حرام چیزوں ) سے روزہ اِفطار کر ڈالا! ہُوا یُوں کہ ایک دُوسری کے پاس بیٹھ گئی اور دونوں مِل کر لوگوں کا گوشت کھانے (یعنی غیبت کرنے) لگیں ۔(2)
٭…٭…٭
________________________________
1 - ذم الغیبۃلابن ابی الدنیا، ص۷۲، الحدیث: ۳۱
2 - مسند احمد، ۹ / ۱۶۵، الحدیث: ۲۳۷۱۴