Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
275 - 329
اے ہمارے پیارے اللہ عَزَّ وَجَلَّ !  ہمیں جھوٹ کے گناہ سے محفوظ و مامون فرما، ہمیں ہمیشہ سچ بولنے کی توفیق مرحمت فرمااور ہمیں زبان کی جملہ آفتوں سے بچنے کے لئے زبان کا قفل مدینہ لگانے کی توفیق عطا فرما۔ 
بولوں نہ فضول اور رہیں نیچی نگاہیں
آنکھوں کا زبان کا دے خدا قفل مدینہ
٭…٭…٭
غیبت
غیبت کی تعریف اور اس کا شرعی حکم
سوال …:  	 غیبت سے کیا مراد ہے؟
جواب …:  	 غیبت ناجائز و حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔ اس کی مراد درج ذیل تین اقوال سے سمجھئے: 
٭…  ایک بار ہمارے پیارے پیارے اور میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے دریافت فرمایا:   ’’ کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟ ‘‘  عرض کی گئی:  اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اور اس کا رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں ۔ فرمایا:  (غیبت یہ ہے کہ) تم اپنے بھائی کا اس طرح ذکر کرو جسے وہ ناپسند کرتا ہے۔ عرض کی گئی:  اگر وہ بات اس میں موجود ہو تو؟ فرمایا:   ’’ جو با ت تم کہہ رہے ہو اگر وہ اس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت کی اور اگر اس میں موجود نہ ہوتو تم نے اس پر بہتان باندھا۔ ‘‘ (1)
٭…  بہارِ شریعت میں ہے: غیبت کے یہ معنی ہیں کہ کسی شخص کے پوشیدہ عیب کو (جس کو وہ دوسروں کے سامنے ظاہر ہونا پسند نہ کرتا ہو) اس کی برائی کرنے کے طور پر ذکر کرنا۔ (2)
٭…  عُلَمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام فرماتے ہیں :  انسان کے کسی ايسے عیب کا ذکر کرنا جو اس ميں موجود ہو غيبت کہلاتا 



________________________________
1 -    مسلم،  كتاب البروالصلة والآداب ،  باب تحريم الغيبة،   ص۱۳۹۷ ، حدیث: ۷۰ - (۲۵۸۹)
2 -    بہارِ شریعت،   زبان کو روکنا اور گالی گلوج غیبت اور چغلی سے پرہیز کرنا،   ۳ / ۵۳۲