Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
274 - 329
٭…  اسی طرح جب انہیں مدرسے کا سبق یاد کرنے کا کہا جائے تو جھوٹا عذر پیش کردیتے ہیں کہ مجھے نیند آرہی ہے، مجھے فلاں تکلیف ہے۔ 
٭…  ایسے ہی جب ایک بچہ دوسرے بچے سے لڑائی جھگڑا کرلے یا کسی کومارے تو دریافت کرنے پر جھوٹ بول دیتاہے کہ میں نے تو نہیں مارا۔ 
٭…  عموماً والدین اپنے بچے کو صحت کے لئے نقصان دہ چیزیں کھانے سے منع کرتے ہیں اور محلہ کے برُے لڑکوں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے بھی منع کرتے ہیں مگر بچے باز نہیں آتے اور والدین جب پوچھتے ہیں تو جھوٹ بول دیتے ہیں ۔ 
سوال …:  	 جھوٹ بولنے کے چند نقصان بیان کیجیے؟
جواب …:   جھوٹ بولنے کے چند نقصان یہ ہیں :  
٭… جھوٹ کبیرہ گناہ ہے۔ 	٭… جھوٹ منافق کی علامت ہے۔ 	٭… جھوٹ جہنم میں لے جانے والا عمل ہے۔ 
٭… جھوٹ سے نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں ۔	٭… جھوٹ سے گناہوں میں اضافہ ہوتاہے۔
٭… جھوٹ سے رزق میں کمی واقع ہوتی ہے۔ 	٭… اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  نے جھوٹوں پر لعنت فرمائی ہے۔
٭… جھوٹ سے دل کالا ہوجاتاہے۔		٭…  جھوٹ بولنا کافروں ، منافقوں اور فاسقوں کا طریقہ ہے۔
٭…  جھوٹ بولنے والے کو آخرت میں ہولناک عذاب دیا جائے گا کہ چمٹے سے اس کے گال، آنکھیں اور ناک چیرپھاڑ دیئے جائیں گے۔
٭…  جھوٹ بولنے والوں کو اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  اور اسکے پیارے رسو ل صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بالکل بھی پسند نہیں فرماتے۔ 
پیارے مدنی منو!  سچے دل سے توبہ کرلیجئے کہ آئندہ کبھی بھی کسی سے جھوٹ نہیں بولیں گے۔ نہ ہی جھوٹی قسمیں کھائیں گے، نہ جھوٹے لطیفے سنیں سنائیں گے، نہ ہی جھوٹے لطیفے اور جھوٹے خواب بیان کریں گے اور نہ ہی مذاق میں جھوٹ بولیں گے۔ بس ہمیشہ سچ بولیں گے کیونکہ سچائی جنت کا راستہ ہے اور اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی رضا و خوشنودی کا ذریعہ ہے۔