جواب …: بات بات پر قسمیں کھانا بری عادت ہے کیونکہ زیادہ قسمیں کھانا جھوٹا ہونے کي علامت ہے۔
سوال …: جھوٹی قسم کھانا کیسا ہے؟
جواب …: جھوٹی قسم کھانا ناجائز و گناہ اور شیطانی کام ہے، ہمیں اس گناہ سے بچنا چاہیے۔
سوال …: لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹے لطیفے سنانا کیسا ہے؟
جواب …: لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹے لطیفے سنانا بھی ناجائز وگناہ ہے، ان باتوں سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ناراض ہوتاہے۔جیسا کہ مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشادِ گرامی ہے: ’’ ہلاکت ہے اس کے لئے جو لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولتا ہے اس کے لئے ہلاکت ہے اس کے لئے ہلاکت ہے۔ ‘‘ (1) ایک روایت میں ہے کہ جو بندہ محض اس لئے بات کرتاہے کہ لوگوں کو ہنسائے تو اس کی وجہ سے آسمان وزمین کے درمیان موجود فاصلے سے بھی زیادہ دور (جہنم میں ) جا گرتا ہے۔ ‘‘ (2)
سوال …: بعض بچے لطیفے اور جھوٹی کہانی والی کتابیں پڑھتے ہیں اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جواب …: ایسی کتابیں پڑھنا صحیح نہیں کہ ایسی باتیں بچوں میں غفلت پیدا کرتی ہیں ۔
سوال …: کیا مذاق میں جھوٹ بول سکتے ہیں ؟
جواب …: جی نہیں ! مذاق میں بھی جھوٹ بولناحرام ہے۔
سوال …: بعض والدین بچوں کو ڈرانے کے لئے جھوٹی باتیں کرتے ہیں کہ فلاں چیز آرہی ہے یا بہلانے کے لئے کہتے ہیں کہ ادھر آؤ ہم تمہیں چیز دیں گے مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا اس کاکیاحکم ہے؟
جواب …: یہ بھی جھوٹ میں شامل ہے اور حرام و گناہ ہے۔
سوال …: بعض بچے من گھڑت خواب سناتے ہیں ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟
________________________________
1 - ترمذی، كتاب الزھد، باب ما جاء من تکلم الخ، ۴ / ۱۴۲، حديث:۲۳۲۲
2 - شعب الايمان، الباب الرابع والثلاثون من شعب الایمان، باب في حفظ اللسان، ۴ / ۲۱۳، حديث:۴۸۳۲