”اخلاص“ کے 5حروف کی نسبت سے اس کے متعلق پانچ فرامینِ مصطفٰے
(1)… جو دنیاسے اس حال میں گیاکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے اپنے تمام اعمال میں مخلص تھا اور نماز، روزے کا پابند تھا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس سے راضی ہے۔(1)
(2)… اللہ عَزَّ وَجَلَّ وہی عمل پسند فرماتاہے جو اخلاص کے ساتھ اس کی رضا چاہنے کے لئے کیا جاتاہے۔(2)
(3)… اے لوگو! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے اخلاص کے ساتھ عمل کرو کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ وہی اعمال قبول فرماتا ہے جو اس کے لئے اخلاص کے ساتھ کیے جاتے هیں اور یہ مت کہا کرو کہ میں نے یہ کام اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور رشتہ داري کی وجہ سے کیا۔(3)
(4)…اپنے دین میں مخلص ہوجاؤ، تھوڑا عمل بھی تمہارے لئے کافی ہوگا۔ (4)
(5)… جب آخر ی زمانہ آئے گا تو میری امّت تین گروہ میں بٹ جائے گی ۔ایک گروہ خالصًا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرے گا دوسرا گروہ دِکھاوے کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرے گا اور تیسرا گروہ اس لیے عبادت کرے گا کہ وہ لوگوں کا مال ہڑپ کرجائے۔ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ بروزِ قیامت ان کو اٹھائے گا تو لوگوں کا مال کھا جانے والے سے فرمائے گا: میری عزت اور میرے جلال کی قسم! میری عبادت سے تو کیا چاہتا تھا؟ تو وہ عرض کرے گا: تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم! میں تو بس لوگوں کا مال کھانا چاہتا تھا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: تو نے جو کچھ جمع کیا اس نے تجھے کچھ فائدہ نہ دیا۔ اسے دوزخ میں ڈال دو۔ پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّ دِکھاوے کے لیے عبادت کرنے والے سے فرمائے گا: میری عزت اور میرے جلال کی قسم! میری عبادت سے تیرا کیا ارادہ تھا؟ وہ عرض کرے گا: تیری عزت و جلال کی قسم! لوگوں کو دکھانا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرما ئے گا: اس کی کوئی نیکی میری بارگاہ میں مقبول نہیں ، اسے دوزخ میں ڈال دو۔ پھر خالصًا اپنی عبادت کرنے والے سے
________________________________
1 - مستدرک ، کتاب التفسیر، باب خطبۃ النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم الخ ، ۳ / ۶۵، حدیث: ۳۳۳۰ ملتقطاً
2 - نسائی، کتاب الجھاد، باب من غزا يلتمس الاجر والذكر، ص ۵۱۰، حدیث:۳۱۳۷
3 - دار قطنی، کتاب الطھار ت ، باب النیۃ، ۱ / ۷۳، حدیث:۱۳۰ ملخصاً
4 - مستدرک ، کتاب الرقاق، ۵ / ۴۳۵، حدیث: ۷۹۱۴