توحیدِ باری تعالٰی
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ہستی کا یقین ہر شخص کی فطرت میں شامل ہے، خاص طور پر مصیبت، بیماری اورموت کے وقت اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ بڑے بڑے منکرین کی زبانوں پر بھی بے ساختہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا نام آ ہی جاتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے متعلق ہمارے عقائد کیا ہیں :
سوال …: ’’ ہر شے کا خالق اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہے ‘‘ کیا یہ درست ہے؟
جواب …: جی ہاں ! یہ درست ہے کہ ہر شے کا خالق اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی ہے کیونکہ جس انسان میں تھوڑی سی بھی عقل ہو دنیا کی چیزوں کو دیکھ کر یہ یقین کر لے گا کہ بے شک یہ آسمان، یہ ستارے اور سیارے، انسان و حیوان اور تمام مخلوق کسی نہ کسی کے پیدا کرنے سے پیدا ہوئے ہیں ۔ آخر کوئی ہستی تو ہے جس نے ان سب کو پیدا کیا کیونکہ جب ہم کسی کرسی یا دروازے اور کھڑکیوں وغیرہ کو دیکھتے ہیں تو فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ ان کو کسی نہ کسی کاریگر نے بنایا ہے اگرچہ ہم نے اپنی آنکھ سے اسے بناتے ہوئے نہ دیکھا لیکن ہماری عقل نے ہماری رہنمائی کی اور ہم نے اس بات کا یقین کر لیا کہ ان چیزوں کا کوئی بنانے والا ہے۔ کسی نے کیا خوبصورت بات کہی ہے کہ جب قدموں کے نشانات سے پتا چل جاتا ہے کہ یہ کس کے ہیں تو پھر آسمان و زمین کو دیکھ کر یہ یقین کیوں نہیں ہوتا کہ اِن کا بھی کوئی بنانے والا ہے۔