Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
269 - 329
اخلاص
ہر مسلمان کوچاہیے کہ وہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی عبادت ونیک اعمال میں ریا کاری جیسے گناہ کو شامل نہ ہونے دے بلکہ جو بھی نیک اعمال کرے خاص اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی رضا یعنی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کو راضی کرنے کے لئے کرے کہ اس کو اخلاص کہتے ہیں اور یاد رکھے کہ اخلاص والی نیکی ہی اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  کی بارگاہ میں مقبول ہے۔
اخلاص کے متعلق فرامینِ باری تعالیٰ
مخلص مومن کی مثال
قرآنِ پاک میں مخلص مومن کی مثال ان الفاظ کے ساتھ دی گئی ہے:  
وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِۚ-فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ(۲۶۵) (پ۳، البقرۃ: ۲۶۵)
ترجمۂ کنز الایمان:  اور ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی رضا چاہنے میں خرچ کرتے ہیں اور اپنے دل جمانے کو اس باغ کی سی ہے جو بھوڑ (ریتلی زمین) پر ہو اس پر زور کا پانی پڑا تو دونے میوے لایا پھر اگر زور کا مینھ اسے نہ پہنچے تو اوس کافی ہے اور اللہ تمہارے کا م دیکھ رہا ہے۔
	صدر الافاضِل حضرت مولانا سیِّد محمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی خَزائنُ العرفان میں اس آیت مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں :  یہ مومن مخلص کے اعمال کی ایک مثال ہے کہ جس طرح بلند خطہ کی بہتر زمین کا باغ ہر حال میں خوب پھلتا ہے خواہ بارش کم ہو یا زیادہ!  ایسے ہی با اخلاص مومن کا صدقہ اور انفاق (یعنی راہِ خدا میں خرچ کرنا) خواہ کم ہو یا زیادہ اللہ تعالٰی اس کو بڑھا تاہے اور وہ تمہاری نیت اور اخلاص کو جانتا ہے ۔