Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
266 - 329
حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ یہ آیتِ مبارکہ ریاکاروں کے حق میں نازل ہوئی۔ (1)
شیطان کے دوست
لوگوں پر اپنی دھاک بٹھانے کے لئے مال خرچ کرنے والے ریاکاروں کو شیطان کے دوست قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ پارہ 5سورۃ النساء میں ارشاد ہوا :  
وَ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِؕ-وَ مَنْ یَّكُنِ الشَّیْطٰنُ لَهٗ قَرِیْنًا فَسَآءَ قَرِیْنًا(۳۸) (پ۵، النسآء:  ۳۸) 
ترجمۂ کنز الایمان:  اور وہ جو اپنے مال لوگوں کے دکھاوے کو خرچتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے ﷲ اور نہ قیامت پر اور جس کا مصاحب شیطان ہوا تو کتنا برا مصاحب ہے۔
ریا کاروں کا ٹھکانا
دکھاوے کی نمازیں پڑھنے والے بدنصیبوں کا ٹھکانا جہنم ہوگا ۔چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: 
فَوَیۡلٌ لِّلْمُصَلِّیۡنَ ۙ(۴) الَّذِیۡنَ ہُمْ عَنۡ صَلَاتِہِمْ سَاہُوۡنَ(۵) الَّذِیۡنَ ہُمْ یُرَآءُوۡنَ ۙ(۶)وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۠(۷) (پ۳۰، الماعون:  ۴ تا ۷)
ترجمۂ کنز الایمان:  تو ان نمازیوں کی خرابی ہے جواپنی نماز سے بھولے بیٹھے ہیں ،وہ جو دکھاوا کرتے ہیں اور برتنے کی چیز مانگے نہیں دیتے۔
ریاکاری و ریاکار کے متعلق پانچ فرامینِ مصطفٰے
(1)… مجھے تم پر سب سے زیادہ شرکِ اصغر یعنی دکھاوے میں مبتلا ہونے کا خوف ہے، اللہ  عَزَّ وَجَلَّ  قیامت کے دن کچھ لوگوں کو ان کے اعمال کی جزا دیتے وقت ارشاد فرمائے گا:  ان لوگوں کے پاس جاؤ جن کے لئے دنیا میں تم دکھاوا کرتے تھے اور دیکھو کہ کیا تم ان کے پاس کوئی جزا پاتے ہو۔ (2)



________________________________
1 -    تفسیر روح البیان،   پ۱۲،   ھود،   ۴ / ۱۰۸،   تحت الآیۃ:۱۵
2 -    مسند احمد،   ۹ / ۱۶۰،   حديث :۲۳۶۹۲