اعلانِ جنگ کرتے اور جب لوگوں کے سامنے ہوتے تو میری بارگاہ میں دوغلے پن سے حاضر ہوتے، نیز لوگوں کے دِکھلاوے کے لئے عمل کرتے جبکہ تمہارے دلوں میں میری خاطر اس کے بالکل برعکس صورت ہوتی، لوگوں سے محبت کرتے اور مجھ سے محبت نہ کرتے، لوگوں کی عزت کرتے اور میری عزت نہ کرتے، لوگوں کے لئے عمل چھوڑ دیتے مگر میرے لئے برائی نہ چھوڑتے تھے، آج میں تمہیں اپنے ثواب سے محروم کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے عذابِ الیم کامزہ بھی چکھاؤں گا۔(1)
ریاکاری و ریاکار کے متعلق فرامینِ باری تعالٰی
اعمال کی بربادی
دِکھاوے کے لئے عِبادَت کرنے والے کاعَمَل ضائع ہوجاتا ہے ۔ قرآن مجید میں اِرشاد ہوا :
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُبْطِلُوۡا صَدَقٰتِکُمۡ بِالْمَنِّ وَالۡاَذٰیۙ کَالَّذِیۡ یُنۡفِقُ مَالَہٗ رِئَآءَ النَّاسِ (پ۳، البقرۃ: ۲۶۴)
ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو! اپنے صدقے باطل نہ کردو احسان رکھ کر اور ایذا دے کر، اس کی طرح جواپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے ليے خرچ کرے۔
دُنیا کو آخرت پر ترجیح دینے والے نادانوں کے اعمال برباد ہونے کے متعلق ارشادِ باری تَعَالٰی ہے:
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ(۱۵)اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ ﳲ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۱۶) (پ۱۲، ھود: ۱۶،۱۵)
ترجمۂ کنز الایمان: جو دنیا کی زندگی اور آرائش چاہتا ہوہم اس میں ان کا پورا پھل دے دیں گے اور اس میں کمی نہ دیں گے، یہ ہیں وہ جن کے لیے آخرت میں کچھ نہیں مگر آگ اور اکارت گیا جو کچھ وہاں کرتے تھے اور نابود ہوئے جو ان کے عمل تھے۔
________________________________
1 - المعجم الاوسط، ۴ / ۱۳۵، حدیث:۵۴۷۸