پیارے مدنی منو! ہمیں بھی اپنے مسلمان بھائی کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے معاف کردینا چاہیے، ہوسکتاہے کہ ہمارا یہی عمل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں مقبول ہوجائے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کل بروزِ قیامت ہماری خطائیں بھی معاف فرماکر ہمیں جنت میں داخلہ عطا فرما دے۔
٭…٭…٭
ریا کاری
ریاکاری کی تعریف
سوال …: ریا سے کیا مراد ہے؟
جواب …: ریا سے مراد دکھاوا ہے یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت یا نیک اعمال کے ذریعے لوگوں سے اپنی عزت و شہرت کی خواہش رکھنا کہ میرے اس عمل پر لوگوں میں میری واہ واہ ہولوگ مجھے اچھا و نیک سمجھیں ۔ ریا کرنے والے کو ’’ ریاکار ‘‘ کہتے ہیں ۔
ریاکاروں کی حسرت
سوال …: کیا ریاکاری کا شمار جہنم میں لے جانے والے اعمال میں ہوتا ہے؟
جواب …: جی ہاں ! ریاکاری کا شمار جہنم میں لے جانے والے اعمال میں ہوتا ہے۔ چنانچہ قیامت کے دن کچھ لوگوں کو جنت میں لے جانے کا حکم ہو گا، یہاں تک کہ جب وہ جنت کے قریب پہنچ کر اس کی خوشبو سونگھیں گے اور اس کے محلات اور اہل جنت کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تیار کردہ نعمتیں دیکھ لیں گے، تو ندا دی جائے گی: انہیں لَوٹا دو کیونکہ ان کا جنت میں کوئی حصہ نہیں ۔ تو وہ ایسی حسرت لے کر لوٹیں گے جیسی اوّلین وآخرین نے نہ پائی ہو گی، پھر وہ عرض کریں گے: یااللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اگر تو وہ نعمتیں دکھانے سے پہلے ہی ہمیں جہنم میں داخل کر دیتا جو تو نے اپنے محبوب بندوں کے لیے تیار کی ہیں تو یہ ہم پر زیادہ آسان ہوتا۔ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: بدبختو! میں نے ارادۃً تمہارے ساتھ ایسا کیا ہے جب تم تنہائی میں ہوتے تو میرے ساتھ