جواب …: جی ہاں ! دوسروں کی دِل آزاری جہنم میں لے جانے کا باعث بن سکتی ہے۔ چنانچہ حضرت سیدنا مجاہد عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْوَاحِد فرماتے ہیں : ’’ اہل دوزخ پر خارش کو مسلط کر دیا جائے گا، وہ اتنی خارش کرتے ہوں گے کہ ان کے چمڑے اتر جانے کے باعث ہڈیاں نمودار ہوجائیں گی، تووہ کہیں گے: یا اللہ! کس وجہ سے ہم اس مصیبت میں مبتلا ہیں ؟ توان کو جواب دیا جائے گا: تم مسلمانوں کو ایذا دیتےتھے۔ ‘‘ (1)
سوال …: کیا دوسروں کو تکلیف سے بچانا ہمیں جنت کا حق دار بنا سکتا ہے؟
جواب …: جی ہاں ! دوسروں کو تکلیف سے بچانا ہمیں جنت کا حق دار بنا سکتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے مسلمان بھائی کو زبان یا ہاتھ کسی طرح سے بھی ایذا یعنی تکلیف نہ دیں بلکہ اسے ہر تکلیف سے بچانے کی کوشش کریں ۔ جیساکہ سرکارِ ابد قرار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ میں نے ایک ایسے شخص کو جنت میں چلتے پھرتے دیکھا جس نے راستے سے ایک ایسے درخت کو کاٹ دیا تھا جو مسلمانوں کی ایذا کا باعث بنا رہتا تھا۔ ‘‘ (2) ایک روایت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے مسلمانوں کے راستے سے کسی تکلیف پہنچانے والی چیز کو دور کردیا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے حق میں نیکی لکھ دے گا اور جس كي نيكي قبول هوگئي وه جنت ميں داخل هو گاـ۔(3)
سُبْحَانَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اپنے مسلمان بھائی کے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانے کی کتنی فضیلت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے حق میں نیکی درج فرما دیتا ہے اور اس کے لئے جنت كا داخلہ آسان كر دیتا ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے اسلامی بھائیوں کو بھی تکلیف سے بچانے کی کوشش کریں تا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہم سے راضی ہو جائیں اور اگر کوئی ہمیں ایذا دے یعنی تکلیف پہنچائے تو ہمیں اسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لئے معاف کر دینا چاہیے کہ اپنے مسلمان بھائی کو معاف کرنے کی بھی بہت فضیلت مروی ہے۔ چنانچہ فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے: ’’ معاف کردینے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ آدمی کی عزت میں اضافہ فرما دیتا ہے۔ ‘‘ (4)
________________________________
1 - در منثور، پ۲۲، الاحزاب، ۶ / ۶۵۷، تحت الآیۃ: ۵۸
2 - مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فضل ازالۃ الاذی عن الطریق، ص ۱۴۱۰، حدیث: ۱۲۷ - (۱۹۱۴)
3 - الادب المفرد للبخاری، باب البغی، ص ۱۵۵، حديث :۵۹۳
4 - مسلم ، كتاب البروالصلة والآداب، باب استحباب العفووالتواضع، ص ۱۳۹۷، حديث: ۶۹ - (۲۵۸۸)