اپنے مسلمان بھائی کی تکلیف کو اپنی تکلیف تصور کریں اور اپنے اسلامی بھائی کی مدد کریں ۔ چنانچہ،
سرکارِ مدینہ، راحت ِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ رحمت نشان ہے: ’’ جو آدمی مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کر دے میں اس کے میزان کے پاس کھڑا ہو جاؤں گا اگر زیادہ وزن ہوگیا تو ٹھیک، ورنہ میں اس کے حق میں سفارش کروں گا۔ ‘‘ (1) ایک روایت میں ہے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی حاجت میں چل پڑا اس کے ہر ایک قدم پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ 70 نیکیاں درج کرے گا اور 70 برائیاں دور کر دے گا اور اگر اُس ضرورت مند مسلمان کی ضرورت اِس کے ذریعے سے پوری ہو گئی تو وہ گناہوں سے یوں پاک ہو گیا جیسے اس دن تھا کہ جس دن اس کی ماں نے اسے جنا، اگر وہ اس دوران وفات پاگیا تو بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہو گا۔(2)
پیارے مدنی منو! اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرنے والا کتنا خوش نصیب ہے کہ وہ بغیر حساب وکتاب جنت میں داخل ہوگا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے اسلامی بھائی کی مدد کیا کریں ۔
٭…٭…٭
دل آزاری
سوال …: بطورِ مسلمان کیا ہمیں دوسروں کی دِل آزاری کرنی چاہئے؟
جواب …: جی نہیں ! ہرگز ہرگز ہمیں اپنے کسی اسلامی بھائی کی دل آزاری نہیں کرنی چاہئے کیونکہ کامل مسلمان وہی ہوتا ہے جس کی زبان و ہاتھ سے دیگر مسلمان محفوظ رہیں ۔ جیسا کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ مسلمان وہ ہوتا ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دیگر مسلمان محفوظ رہیں ۔ (3)
سوال …: کیا دوسروں کی دِل آزاری جہنم میں لے جانے کا باعث بن سکتی ہے؟
________________________________
1 - حلیۃ الاولیاء، ۶ / ۳۸۹، حدیث: ۹۰۳۸
2 - الترغيب والترھيب ، كتاب البروالصلة، باب الترغيب فی قصاء حوائج المسلمين، ۳ / ۲۶۴، حديث :۱۳
3 - مسلم ، كتاب الايمان ، باب بيان تفاضل الاسلام الخ، ص۴۱، حديث: ۶۵ - (۴۱)