عرض کی: یارسُول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے یہ کیوں کر معلوم ہو کہ میں نے اچھّا کیا یا بُرا؟ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ جب تم پڑوسیوں کو یہ کہتے سُنو کہ تم نے اچّھا کیا تو بیشک تم نے اچّھا کیا اور جب یہ کہتے سُنو کہ تم نے بُرا کیا تو بے شک تم نے بُرا کیاہے۔ ‘‘ (1)
دوستوں اور ہم سفروں کا احترام
سوال …: دوستوں اور ہم سفروں کے ساتھ ہمیں کیسا برتاؤ کرنا چاہئے؟
جواب …: ٹرین یا بس وغیرہ میں اگر نِشَسْتَیں کم ہوں تو یہ نہیں ہونا چاہئے کہ بعض بیٹھے ہی رہیں اور بعض کھڑے کھڑے ہی سفر کریں ۔ بلکہ ہونا یہ چاہئے کہ سارے باری باری بیٹھیں اور تکلیفیں اُٹھا کر ثواب کمائیں ۔ چُنانچِہ حضرتِ سَیِّدُنا عبدُاللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ غزوۂِ بدر میں فی اونٹ تین افراد تھے۔ چُنانچِہ حضرتِ ابولُبابہ اور حضرتِ علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سُواری میں شریک تھے۔ دونوں حضرات کا بیان ہے کہ جب سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیدل چلنے کی باری آتی تو ہم دونوں عَرْض کرتے کہ سرکار! آپ سُوار ہی رہئے، حضور کے بدلے ہم پیدل چلیں گے۔ ارشاد فرماتے: ’’ تم مجھ سے زِیادہ طاقتور نہیں ہو اور تمہاری طرح میں بھی ثواب سے بے نیاز نہیں ہوں ۔ ‘‘ (2) (یعنی مجھے بھی ثواب چاہئے پھر میں کیوں پیدل نہ چلوں )
٭…٭…٭
دوسروں کی مدد کرنا
سوال …: بطورِ مسلمان کیا ہمیں دوسروں کے دکھ درد کو ان کی مدد کرنی چاہئے؟
جواب …: جی ہاں ! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا کروڑ ہا کروڑ احسان کہ اس نے ہمیں مسلمان بنایا اور اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دامن کرم عطا فرمایا۔ سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم
________________________________
1 - ابن ماجہ، کتاب الزھد، الثناء الحسن، ۴ / ۴۷۹، حدیث: ۴۲۲۳
2 - شرح السنۃ، کتاب السیر والجھاد، باب العقبۃ، ۵ / ۵۶۵، حدیث: ۲۶۸۰