نِفاق
سوال …: نِفاق کی کیا تعریف ہے؟
جواب …: زَبان سے اسلام کا دعویٰ کرنا اور دل میں اسلام سے انکار کرنا نِفاق ہے۔ یہ بھی خالِص کُفر ہے بلکہ ایسے لوگوں کے لیے جہنَّم کا سب سے نِچلاطبقہ ہے۔سرورِ کائنات،شَہَنْشاہِ موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ظاہِری حیات کے زمانے میں اِس صِفَت کے کچھ افراد بطورِ مُنافِقِین مشہور ہوئے، ان کے باطِنی کُفر کو قرآنِ مجید میں بیان کیا گیا ہے۔ نیز سلطانِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بعطائے الٰہی اپنے وسیع عِلم سے ایک ایک کو پہچانا اورنام بنام فرما دیا کہ یہ یہ منافِق ہیں ۔ اب اِس زمانے میں کسی مخصوص شخص کی نسبت یقین سے کہنا کہ وہ مُنافِق ہے ممکِن نہیں کہ ہمارے سامنے جو اسلام کا دعویٰ کرے ہم اُسے مسلمان ہی سمجھیں گے جب تک کہ ایمان کے مُنافی (یعنی ایمان کے اُلٹ) کوئی قَول (بات) یا فعل (کام) اُس سے سَرزَد نہ ہو۔ البتہ نِفاق یعنی مُنافَقَت کی ایک شاخ اِس زمانے میں بھی پائی جاتی ہے کہ بَہُت سے بدمذہب اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور دیکھا جائے تو اسلام کے دعوے کے ساتھ ساتھ بَہُت سے ضَروریاتِ دین کا انکار بھی کرتے ہیں(1)
مُرتَد
سوال …: مُرتَد کسے کہتے ہیں ؟
جواب …: مُرتَد وہ شخص ہے کہ اسلام کے بعد کسی ایسے اَمر کا انکار کرے جو ضَروریاتِ دین سے ہو۔ یعنی زَبان سے کلِمۂ کفر بکے جس میں تاویلِ صحیح کی گُنجائش نہ ہو۔ یونہیں بعض اَفعال (کام) بھی ایسے ہیں جن سے کافر ہوجاتا ہے مَثَلاً بُت کو سجدہ کرنا،مُصحَف شریف (قرآنِ پاک) کو نَجاست کی جگہ پھینک دینا۔(2)
٭…٭…٭
________________________________
- 1 بہارِ شریعت، ایمان و کفر کا بیان، ۱ / ۱۸۲ ملخّصًا
- 2 بہارِ شریعت، مرتد کا بیان، ۹ / ۴۵۵