پر پورے ہی بال رکھے، آج کل جو چھوٹے چھوٹے بال رکھے جاتے ہیں اس طرح کے بال رکھنا سنت نہیں ہے، لہٰذا طرح طرح کے تراش خراش والے بال رکھنے کے بجائے ہمیں چاہیے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت میں اپنے سر پر آدھے کانوں کی لو تک، کانوں کی لو تک یا اتنی بڑی زلفیں رکھیں کہ شانوں کو چھو لیں ۔(1)
اے ہمارے پیارے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! ہم سب مسلمانوں کو خلافِ سنت بال رکھنے اور رکھوانے کی سوچ سے نجات دے کر سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری پیاری، میٹھی میٹھی زلفیں رکھنے والی ’’ مدنی سوچ ‘‘ عطا فرما۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
٭…٭…٭
مریض کی عیادت کے مدنی پھول
جب ہمارا کوئی مسلمان بھائی بیمار ہو جائے تو ہمیں وقت نکال کر اس اسلامی بھائی کی عیادت کے لئے ضرور جانا چاہیے کہ کسی مسلمان کی عیادت کرنا بھی بہت زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے۔ چنانچہ حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ سلطانِ بحروبر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی ایسے مریض کی عیادت کی جس کی موت کا وقت قریب نہ آیا ہو اور سات مرتبہ یہ الفاظ کہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے اس مرض سے عافیت عطا فرمائے گا:
اَسْئَلُ اللّٰهَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ یَّشْفِیَكَ۔
یعنی میں عظمت والے، عرش کے مالک اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے تیرے لئے شفا کا سوال کرتا ہوں ۔(2)
شیخِ طریقت، امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مدنی پنج سورہ میں عیادت کرتے وقت کی یہ دعا بھی نقل فرمائی ہے:
لَا بَاْسَ طَھُوْرٌ اِنْ شَآءَ اللّٰهُؕ (3)
یعنی کوئی حرج کی بات نہیں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ یہ
________________________________
1 - مدنی مشورہ: چھوٹے مدنی منوں کا حَلْق کرواتے (یعنی سر مُنڈواتے) رَہنا بھی مناسِب ہے اور اگر سنّت کی نیّت سے زلفیں رکھنی ہوں تو آدھے کان سے زائد نہ رکھیں۔
2 - ابو داود ، کتاب الجنائز ، باب الدعاء للمريض عند العیادۃ ، ۳ / ۲۵۱، حدیث:۳۱۰۶
3 - بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوۃ فی الاسلام، ۲ / ۵۰۵، حدیث:۳۶۱۶