کے بال شریف کبھی نصف کان مبارک تک تو کبھی کان مبارک کی لو تک رہتے اور بعض اوقات آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے گیسو بڑھ جاتے تو مبارک شانوں کو جھوم جھوم کر چومنے لگتے۔ بال چونکہ بڑھنے والی چیز ہے۔اس لئے جس صحابی نے جیسا دیکھا وہی روایت کردیا۔ چنانچہ ،
آدھے کانوں کی لو تک: حضرت سیدنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بال مبارک آدھے کانوں کی لو تک تھے۔(1)
کانوں کی لو تک: حضرت سیدنا براء بن عازب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ سلطانِ مدینہ، راحت ِ قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے گیسو مبارک مقدس کانوں کی لو کو چومتے تھے۔(2)
شانوں تک: ام المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میرے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سراقدس پر جو بال مبارک ہوتے وہ کان مبارک کی لو سے ذرا نیچے اور مبارک شانوں سے ذرا اوپر ہوتے تھے۔(3)
سوال …: کیا سر کے بیچ میں سے مانگ نکالنا سنت ہے؟
جواب …: جی ہاں ! سر کے بیچ میں سے مانگ نکالنا سنت ہے۔ جیسا کہ بہارِ شریعت میں ہے: بعض لوگ داہنے یا بائیں جانب مانگ نکالتے ہیں یہ سنت کے خلاف ہے۔ سنت یہ ہے کہ اگر سر پر بال ہوں تو بیچ میں مانگ نکالی جائے اور بعض لوگ مانگ نہیں نکالتے بلکہ بالوں کو سیدھا رکھتے ہیں یہ سنت ِ منسوخہ اور یہودونصاریٰ کا طریقہ ہے۔(4)
ان تمام احادیث ِمبارکہ سے معلوم ہوا کہ ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیشہ اپنے سراقدس
________________________________
1 - شمائل محمدیۃ، باب ماجاء فی شعر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم، ص ۳۷، حدیث: ۲۸
2 - المرجع السابق، ص ۳۵، حدیث: ۲۵
3 - المرجع السابق، ص ۳۴، حدیث: ۲۴
4 - بهار ِشريعت، حجامت بنوانا اور ناخن ترشوانا، ۳ / ۵۸۷ ماخوذاً