٭… حدیث ِ پاک میں ہے ’’ جو چپ رہا اس نے نجات پائی۔ ‘‘ (1)
٭… کسی سے جب بات چیت کی جائے تو اس کا کوئی صحیح مقصد بھی ہونا چاہیے اور ہمیشہ مخاطب کے ظرف اور اس کی نفسیات کے مطابق بات کی جائے جیسا کہ کہا جاتا ہے:
کَلِّمُوا النَّاسَ عَلٰی قَدْرِ عُقُوْلِھِمْ۔
یعنی لوگوں سے ان کی عقلوں کے مطابق کلام کرو۔
اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ایسی باتیں نہ کی جائیں جو دوسروں کی سمجھ میں نہ آئیں ۔ الفاظ بھی سادہ صاف صاف ہوں ، مشکل ترین الفاظ بھی استعمال نہ کیے جائیں کہ اس طرح اگلے پر آپ کی علمیت کی دھاک تو بیٹھ جائے گی مگر اسے یہ سمجھ میں نہ آئے گا کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں ۔
سوال …: بات چیت کے دوران کن امور سے بچنا چاہئے؟
جواب …: بات چیت کے دوران درج ذیل امور سے بچنا چاہئے:
٭… چلّاچلّاکر بات کرنا جیسا کہ آج کل بے تکلفی میں دوست آپس میں کرتے ہیں معيوب ہے ۔
٭… دورانِ گفتگو ایک دوسرے کے ہاتھ پر تالی دینا ٹھیک نہیں ۔
٭… دوسرے کے سامنے بار بار ناک یا کان میں انگلی ڈالنا، تھوکتے رہنا اچھی بات نہیں ۔ اس سے دوسروں کو گھن آتی ہے۔
٭… جب تک دوسرا بات کررہا ہو، اطمینان سے سنیں ، اس کی بات کاٹ کر اپنی بات نہ شروع کر دیں ۔
٭… کوئی ہکلا کر بات کرتا ہو تو اس کی نقل نہ اتاریں کہ اس سے اس کی دل آزاری ہوسکتی ہے۔
٭… زیادہ باتیں کرنے اور باربار قہقہہ لگانے سے وقار مجروح ہوتا ہے۔ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کبھی قہقہہ نہیں لگایا۔(2)
٭… زبان کو ہمیشہ بُری باتوں سے روکے رکھیں کیونکہ زبان کے صحیح یا غلط استعمال کا جو کچھ فائدہ و نقصان ہوتا ہے وہ سارے جسم کو ہوتا ہے۔ چنانچہ مروی ہے کہ جب انسان صبح کرتا ہے تو اس کے اعضاء جھک کر زبان سے کہتے
________________________________
1 - ترمذی ، کتاب صفۃ القیامۃ، باب ۵۰، ۴ / ۲۲۵، حدیث: ۲۵۰۹
2 - وسائل الوصول، الباب الثانی، الفصل الثامن، ص ۹۳