سوال …: دورانِ سفر کیا کرنا چاہئے؟
جواب …: دورانِ سفر درج ذیل امور پر عمل کرنا چاہئے:
٭… دورانِ سفر ذکر اللہ کرتے رہیں ، ریل یا بس وغیرہ میں بِسْمِ اللّٰه، اَللّٰهُ اَکْبَر اور سُبْحَانَ الله تین تین بار اور لَاۤ اِلٰـهَ اِلَّا الله ایک بار پڑھیں ۔
٭… مسافر کو چاہیے کہ وہ دعا سے غفلت نہ کرے کہ جب تک یہ سفر میں ہے اس کی دعا قبول ہوتی ہے بلکہ جب تک گھر نہیں پہنچتا اس وقت تک دعا مقبول ہے۔ مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: تین قسم کی دعائیں مُسْتَجَاب (یعنی مقبول) ہیں ۔ ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں : (۱)مظلوم کی دعا (۲) مسافر کی دعا (۳) باپ کی اپنے بیٹے کے لئے دعا۔ (1)
٭… دورانِ سفر اگر کوئی حاجت مند مل جائے تو اس کی حاجت روائي کرنی چاہیے۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس میں ثواب زیادہ ہوگا۔
٭… جب سیڑھیوں پرچڑھیں یا اونچی جگہ کی طرف چلیں یا بس وغیرہ کسی ایسی سڑک سے گزریں جو اونچائی کی طرف جارہی ہوتو اَللهُ اَکْبَر کہنا سنت ہے اور جب سیڑھیوں سے اُتریں یا ڈھلان کی طرف چلیں تو سُبْحَانَ الله کہنا سنت ہے۔
٭… جب کسی منزل پر ٹھہریں تو وقتاً فوقتاً یہ دعا پڑھیں : اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہر نقصان سے بچیں گے:
اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰهِ التَّآمَّاتِ مِنْ شَرِّمَا خَلَقَ
یعنی میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کلماتِ تامہ کی پناہ مانگتاہوں اس کے شرسے جسے اس نے پیدا کیا۔(2)
________________________________
1 - ترمذی، کتاب الدعوات، باب ماذکر فی دعوۃ المسافر، ۵ / ۲۸۰، حدیث: ۳۴۵۹
2 - کنز العمال ، کتاب السفر ، الفصل الثانی فی آداب السفر، الجزء السادس، ۳ / ۳۰۱، حدیث: ۱۷۵۰۸