’’ جس گھر میں مہمان ہو اس گھر میں خیر وبرکت اس طرح دوڑتی ہے جیسے چھری اونٹ کی کوہان پر، بلکہ اس سے بھی تیز۔ ‘‘ (1)
٭… مہمان آتا ہے تو اپنا رزق لے کر آتا ہے اور جاتا ہے تو میزبان کے لئے گناہ معاف ہونے کا سبب ہوتاہے ۔ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ جب کوئی مہمان کسی کے یہاں آتاہے تو اپنا رزق لے کر آتاہے اور جب اس کے یہاں سے جاتاہے تو صاحب ِ خانہ کے گناہ بخشے جانے کا سبب ہوتاہے۔ ‘‘ (2)
٭… 10فرشتے سال بھر گھرمیں رحمت لٹاتے رہتے ہیں ۔ چنانچہ حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا براء بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشاد فرمایا: اے براء! آدمی جب اپنے بھائی کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لئے مہمانی کرتا ہے اور اس کی کوئی جزا اور شکریہ نہیں چاہتا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے گھر میں دس فرشتوں کو بھیج دیتا ہے جو پورے ایک سال تک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تسبیح و تہلیل اور تکبیر پڑھتے ہیں اور اس کے لئے مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور جب سال پورا ہو جاتا ہے تو ان فرشتوں کی پورے سال کی عبادت کے برابر اس کے نامۂ اعمال میں عبادت لکھ دی جاتی ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذمۂ کرم پر ہے کہ اس کو جنت کی لذیذ غذائیں جَنَّۃُ الْخُلْد اور نہ فنا ہونے والی بادشاہی میں کھلائے۔(3)
٭… مہمان کو دروازے تک رخصت کرنا سنت ہے۔ چنانچہ حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کا بیان ہے کہ تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ سنت یہ ہے کہ آدمی مہمان کو دروازے تک رخصت کرنے جائے۔ ‘‘ (4)
________________________________
1 - ابن ماجه، كتاب الاطعمة، باب الضيافة، ۴ / ۵۱، حديث : ۳۳۵۶
2 - فردوس الاخبار، ۲ / ۴۱، حدیث: ۳۷۱۱
3 - كنزالعمال، كتاب الضيافة، الجزء التاسع، ۵ / ۱۱۹، حديث:۲۵۹۷۲
4 - ابن ماجہ، کتاب الاطعمۃ ، باب الضیافۃ، ۴ / ۵۲، حدیث: ۳۳۵۸