Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
238 - 329
عمدہ قسم کی خوشبو لگانا سنت ہے
سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو عمدہ اور بہترین قسم کی خوشبو بہت پسند آتی اور ناگوار بو یعنی بدبو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ناپسند فرماتے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عمدہ خوشبو استعمال فرماتے اور اسی کی لوگوں کو بھی تلقین فرماتے۔ 
سر میں خوشبو لگانا سنت ہے
سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عادتِ کریمہ تھی کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  ’’ مشک ‘‘  سر اقدس اور داڑھی مبارک میں لگایا کرتے۔(1)
خوشبو کا تحفہ قبول کرنا
حضرت سیدنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ نبیوں کے سردار، معطر معطر سرکارِ نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت بابرکت میں جب خوشبو تحفۃً پیش کی جاتی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رد نہ فرماتے۔(2)
کون کیسی خوشبو استعمال کرے؟
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ مکی مدنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  مردانہ خوشبو وہ ہے جس کی خوشبو ظاہر ہو مگر رنگ نہ ہو اور زنانہ خوشبو وہ ہے جس کا رنگ تو ظاہر ہو مگر خوشبو ظاہر نہ ہو۔(3)
خوشبو کی دھونی لینا سنت ہے
حضرت سیدنا نافع عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الرَّافِع فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  کبھی کبھی خالص عود (یعنی اَگر) کی دھونی لیتے۔ یعنی عود کے ساتھ کسی دوسری چیز کی آمیزش نہیں کرتے اور کبھی عود کے ساتھ کافور ملا 



________________________________
1 -    وسائل الوصول،   الباب الثانی،   الفصل الخامس،   ص۸۷
2 -    شمائل محمدية،   باب ماجاء فی تعطر رسول الله صلی الله تعالی عليه واله وسلم ،  ص ۱۳۰،   حدیث: ۲۰۸
3 -    ترمذی ،  کتاب الادب ،  باب ما جآء فی طیب الرجال والنسآء،   ۴ / ۳۶۱،   حدیث: ۲۷۹۶