اچھی اچھی نیتیں
نیک اعمال کے قبول ہونے کے لئے ہمیں اپنی نیتوں میں اخلاص پیدا کرنا ہو گا۔ آئیے جانتے ہیں کہ نیت کسے کہتے ہیں ؟اور اچھی اچھی نیتوں کے ذریعے ہم کس قدر ثوابِ آخرت کا ذخیرہ اکٹھا کر سکتے ہیں ۔
نیت کسے کہتے ہیں ؟
نیت لُغوی طورپردل کے پختہ اِرادے کو کہتے ہیں اور شَرْعاً عبادت کے اِرادے کو نیت کہا جاتا ہے۔ (1)
جتنی نیتیں اُتنا ثواب
ایک عمل میں جتنی نیّتیں ہوں گی اتنی نیکیوں کا ثواب ملے گا، مثلاً کسی محتاج رشتے دار کی مدد کرنے میں اگر نیت فقط صدقہ کی ہوگی تو ایک نیت کا ثواب ملے گا اور اگر صلۂ رحمی (یعنی خاندان والوں سے نیکی کا برتاؤ کرنے) کی نیّت بھی کریں گے تو دوگنا ثواب پائیں گے۔ (2) اسی طرح مسجد میں نماز کے لئے جانا بھی ایک عمل ہے اس میں بہت سی نیّتیں کی جاسکتی ہیں ، امامِ اہلسنّت مولانا شاہ احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَحْمٰن نے فتاویٰ رضویہ جلد5 صفحہ673 میں اس کے لئے چالیس نیّتیں بیان کی ہیں ، آپ مزید فرماتے ہیں : بے شک جو علمِ نیّت جانتا ہے ایک ایک فعل کو اپنے لئے کئی کئی نیکیاں کرسکتا ہے۔(3) بلکہ مباح کاموں میں بھی اچھی نیتیں کرنے سے ثواب ملے گا مثلاً خوشبو لگانے میں اتباعِ سنت، تعظیمِ مسجد، فرحتِ دماغ اور اپنے اسلامی بھائیوں سے ناپسندیدہ بُودور کرنے کی نیّتیں ہوں تو ہر نیّت کاالگ ثواب ہوگا۔(4)
ہر کام سے پہلے اچھی اچھی نیّتیں کر لیجئے
پیارے مدنی منو! بلاشبہ اچھی نیت کرنا ایک ایسا عمل ہے جو محنت کے اعتبار سے بے حد ہلکا لیکن اجروثواب کے
________________________________
1 - ماخوذ از نزھۃالقاری شرح صحیح البخاری، باب بدء الوحی، ۱ / ۲۲۴
2 - اشعۃ اللمعات، ۱ / ۳۶
3 - فتاویٰ رضویہ، ۵ / ۶۷۳
4 - اشعۃاللمعات، ۱ / ۳۷ ملخصاً