وَسَلَّم نے فرمایا: جس نے قرآن پڑھا اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کیا، اس کے والدین کو قیامت کے دن ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی اس سورج سے اچھی ہو گی جو دنیا میں تمہارے گھروں کے اندر چمکتا ہے تو خود اس عمل کرنے والے کے متعلق تمہارا کیا گمان ہے۔ (1)
نیک اولاد صدقۂ جاریہ ہے
والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کو قرآنِ پاک کی تعلیم سے آراستہ و پیراستہ فرمائیں ، اس میں ان کا اپنا فائدہ ہے کہ نیک اولاد والدین کے لئے ثوابِ جاریہ ہوتی ہے۔ عموماً دیکھا گیا ہے کہ جو بچے دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں وہ والدین کا بہت ادب کرتے ہیں یہ معاملہ تو والدین کی حیات میں ہے ان کی وفات کے بعد بھی یہی بچے کام آتے ہیں کہ جب تک وہ تلاوتِ قرآنِ کریم کرتے رہیں گے اور نیک اعمال کرتے رہیں گے ان کے والدین کو اجروثواب ملتا رہے گا۔ اس کو اس مثال سے سمجھئے کہ اگر کسی شخص کے دو بچے ہوں ایک بچے کو اس نے فقط دنیوی تعلیم دِلا کر ڈاکٹر کی ڈگری دلائی، دوسرے کو پہلے حافظ قرآن بنایا، پھر دوسری تعلیم دلائی۔ والدین کے انتقال کے بعد ایصالِ ثواب کے لحاظ سے کون ماں باپ کے لئے فائدہ مند ہو گا؟ کیا ڈاکٹر کی ڈگری مفید ہو گی یا حفظِ قرآنِ کریم؟ عقل مند کے لئے اشارہ کافی ہے۔
پیارے مدنی منو! اے کاش! آپ قرآنِ کریم کی تعلیم کی اہمیت کو سمجھیں اور قرآن و سنت کی تعلیم کو خوب دلجمعی کے ساتھ سیکھیں ۔ اے کاش! ایسا مدنی ماحول بن جائے کہ ہر بچے کے لئے تعلیمِ قرآن لازمی ہو جائے اور ہر ماں باپ اپنے ہر بچے کو قرآن و سنت کی تعلیم کے زیور سے آراستہ کرے۔ ؎
یہی ہے آرزو تعلیم قرآں عام ہوجائے
ہر اک پرچم سے اونچا پرچم اسلام ہوجائے
٭…٭…٭
________________________________
1 - ابوداود، کتاب الوتر، باب فیِ ثواب قراءۃالقران، ۲ / ۱۰۰، حدیث:۱۴۵۳