والدین کی خوش بختی
پیارے مدنی منو! جس طرح آپ خوش نصیب ہیں کہ قرآنِ پاک کی تعلیم حاصل کررہے ہیں اسی طرح آپ کے والدین بھی بڑے خوش قسمت ہیں کیونکہ وہ آپ کو دینی تعلیم کے زیور سے آراستہ کر رہے ہیں ۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کے لئے آپ ایک عظیم ثوابِ جاریہ کا سبب ہوں گے۔ چنانچہ،
قبرسے عذاب اُٹھ گیا
منقول ہے کہ حضرت سیدنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے ایک قبر کے قریب سے گزرتے ہوئے دیکھا کہ اس میت پر عذاب ہو رہا ہے۔ پھر جب آپ عَلَیْہِ السَّلَام کا واپسی پر وہاں سے گزر ہوا تو ملاحظہ فرمایا کہ اس قبر میں نور ہی نور ہے اور وہاں رحمتِ الٰہی کی بارش ہو رہی ہے۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَام بہت حیران ہوئے اور بارگاہِ الٰہی میں عرض کی کہ مجھے اس کا بھید بتایا جائے۔ چنانچہ ارشاد ہوا: اے روحُ اللہ! یہ سخت گناہ گار اور بدکار تھا اس وجہ سے عذاب میں گرفتارتھا۔ اس کے انتقال کے بعد اس کے یہاں لڑکا پیدا ہوا اور آج اس کو مکتب میں بھیجا گیا، استاذ نے اس کو بِسْمِ اللّٰه شریف پڑھائی۔ مجھے حیا آئی کہ میں زمین کے اندر اس شخص کو عذاب دوں جس کا بچہ زمین کے اوپر میرا نام لے رہا ہے۔ (1)
پیارے مدنی منو! دیکھا آپ نے جس شخص کے بچے نے صرف بِسْمِ اللّٰه شریف پڑھی اور اِس کی برکت سے اُس کی بخشش ہو گئی تو جن خوش نصیب والدین کے بچوں نے پورے کلام اللہ کی تعلیم حاصل کی اور اس کے مطابق عمل کیا تو ان کی شان کس قدر بلند ہو گی۔ ایسے خوش نصیب والدین کو یقیناً کل بروزِ قیامت ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی چمک سورج سے بھی زیادہ ہو گی۔چنانچہ،
بروزِ قیامت حافظ کے والدین کو تاج پہنایا جائے گا
حضرت سیِّدُنا معاذ جہنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
________________________________
1 - تفسير كبير، الباب الحادی العشر، النکت المستخرجۃ من البسملۃ، ۱ / ۱۵۵