Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
228 - 329
 کرنے اور تلاوتِ قرآن کا اہتمام فرمانا چاہیے کہ اس میں ہمارے لیے رحمت ہی رحمت ہے۔ چنانچہ، 
مروی ہے کہ حضرت سیدنا اُسَید بن حُضَیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک رات سورۂ بقرہ کی تلاوت فرما رہے تھے کہ یکایک قریب ہی بندھا ہوا آپ کا گھوڑا بدکنے یعنی اچھلنے کودنے لگا۔ آپ خاموش ہوئے تو گھوڑا بھی ٹھہر گیا، آپ نے پھر پڑھنا شروع کیا تو گھوڑا بھی دوبارہ اچھلنے کودنے لگا، آپ پھر خاموش ہو گئے، اس طرح جب آپ پڑھنے لگتے تو گھوڑے کی اچھل کود دیکھ کر پھر خاموش ہو جاتے کیونکہ آپ کے صاحبزادے حضرت یحییٰ گھوڑے کے قریب ہی سو رہے تھے، اس لئے آپ کو اندیشہ ہوا کہ کہیں گھوڑا بچے کو تکلیف نہ پہنچائے۔ چنانچہ جب آپ نے صحن میں آکر آسمان کی طرف دیکھا تو کیا دیکھتے ہیں کہ بادل کی طرح کوئی چیز ہے جس میں بہت سی قندیلیں (چراغ) روشن ہیں ۔ آپ نے صبح کو بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر یہ واقعہ بیان کیا تو رحمتِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  یہ فرشتوں کی مقدس جماعت تھی جو تیری قراءت کی و جہ سے آسمان سے تیرے مکان کی طرف اتر پڑی تھی اگر تو صبح تک تلاوت کرتا رہتا تو یہ فرشتے زمین سے اس قدر قریب ہوجاتے کہ تمام انسانوں کو ان کا دیدارہوجاتا۔(1)
بزرگانِ دین اور تلاوتِ قرآن
	پیارے مدنی منو!  بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن تلاوتِ قرآن پاک میں بہت دلچسپی رکھتے تھے بعض بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن روزانہ چار، بعض دو اور بعض ایک قرآنِ پاک ختم فرماتے۔ اسی طرح بعض حضرات دو دن میں ایک قرآنِ پاک ختم فرماتے، بعض تین دن میں ، بعض پانچ دن میں اور بعض سات دن میں اور سات دن میں قرآنِ پاک ختم کرنا اکثر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا معمول تھا، لہٰذا آپ بھی جتنا ممکن ہو تلاوتِ قرآن پاک کو اپنا معمول بنا لیجئے۔ نیز اپنے سبق کی تکرار بھی کرتے رہیے مگر ایک بات ذہن نشین رکھئے کہ جلدی پڑھنے کی کوشش میں غلط نہیں پڑھنا چاہیے کہ ثواب صحیح پڑھنے میں ہے نہ کہ محض جلدی پڑھنے میں ۔



________________________________
1 -    مشکاۃ المصابيح،   كتاب فضائل القرآن،   ۱ / ۳۹۸،   حديث: ۲۱۱۶ ملخصاً