راہِ علم کے مسافر یعنی طالب علم شیطان پر کس قدر بھاری ہیں اس کا اندازہ ان روایات سے لگایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ حضرت سیدنا ابن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ رسولِ اَکرمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! ایک عالم شیطان پر ایک ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے۔(1) اور حضرت سیدنا واثلہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ اس عالم سے بڑھ کر شیطان کی کمر توڑکر رکھ دینے والی کوئی شے نہیں جو اپنے قبیلہ میں ظاہر ہو۔ ‘‘ (2)
پیارے مدنی منو! شیطان ہر سمت سے طالب علم پر مسلسل حملہ آور ہوتا رہتا ہے اور اسے اُخروی سعادت سے محروم کروا دینے کو اپنی کامیابی تصور کرتا ہے۔ اس سلسلے میں شیطان کی سب سے پہلی کوشش یہ ہوتی ہے کہ کوئی اس راہِ عظیم کا مسافر نہ بن پائے اور اگر کوئی بننے میں کامیاب ہو بھی جائے تو یہ اس طالب علم کو نیت کی خرابی، مایوسی، خود پسندی، تکبر، سستی اور لالچ جیسی ہلاکتوں میں مبتلا کر کے اسے علمِ دین کے ثمرات سے محروم کروانے کی بھرپور کوشش کرتا ہے، لہٰذا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں دعاہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں شیطان کے مکر و فریب سے محفوظ فرمائے اور اپنے بزرگانِ دین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کے نقش قدم پر چل کر علم دین حاصل کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہِ النبی الامین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
٭…٭…٭
تِلاوتِ قرآن مجید
قرآنِ مجید اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا پیارا کلام ہے۔ اس کی تلاوت کرنا بہت بڑا ثواب ہے۔ چنانچہ مروی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ زمین والوں پر عذاب کرنے کا ارادہ فرماتا ہے لیکن جب بچّوں کو قرآنِ پاک پڑھتے سنتا ہے تو عذاب روک لیتا ہے۔ (3)
________________________________
1 - کنزالعمال، کتاب العلم، الجزء العاشر، ۵ / ۷۶، حدیث: ۲۸۹۰۴
2 - کنزالعمال، کتاب العلم، الجزء العاشر، ۵ / ۶۴، حدیث: ۲۸۷۵۱
3 - دارمی، کتاب فضائل القرآن، باب فی تعاھد القرآن، ۲ / ۵۳۰ ، حدیث: ۳۳۴۵