Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
225 - 329
 لگاسکتے ہیں کہ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا معمول تھا کہ ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کے ساتھ ساتھ دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں حاضر ہوکر علمِ دین بھی حاصل کیا کرتے تھے مگر مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے ساٹھ سے 70 صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ایسے تھے جو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے درِ اقدس پر پڑے رہتے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی صحبت میں رہ کر علم دین سیکھنے کے ساتھ ساتھ راہِ خدا میں سفر کر کے کافروں کو دعوتِ اسلام پیش کرتے اور عام مسلمانوں کو شرعی احکامات سکھایا کرتے۔ ان کی رہائش مسجد نبوی سے متصل ایک چبوترے میں تھی جس پر چھت ڈال دی گئی تھی، عربی زبان میں چونکہ چبوترے کو صُفَّہ کہتے ہیں ، لہٰذا ان پاکیزہ ہستیوں کو اصحابِ صفہ کہا جاتا۔ سب سے زیادہ احادیث روایت کرنے والے صحابی حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی انہی خوش نصیبوں میں شامل تھے۔ 
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  اصحابِ صفہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے بعد بھی کثیر مسلمان ان پاکیزہ ہستیوں کے نقش قدم پر چلتے رہے اور اپنے علاقے اور گھر وغیرہ کو چھوڑ کر کسی مدرسہ یا جامعہ میں جمع ہوکر باقاعدہ علم دین سیکھتے سکھاتے رہے اور نیکی کی دعوت عام کرتے رہے۔
پیارے مدنی منو!  دنیاوی ترقی کے ساتھ ساتھ جب روز بروز نت نئی ایجادات ہونے لگیں تو اکثر لوگ علم دین کے حصول کو چھوڑکر دنیاوی علوم وفنون سیکھنے سمجھنے اور اس کے ذریعے اپنی زندگی عیش و آرام کے ساتھ گزارنے کی جستجو میں لگ گئے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پرفتن دور میں آج کا مسلمان علمِ دین کے حصول کے جذبے سے ناواقف اور کوسوں دور نظر آتاہے۔ اگر کچھ لوگ خوش قسمتی سے راہِ علم کے مسافر بن جاتے ہیں تو نفس و شیطان انہیں اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں کیونکہ جس طرح ہر قیمتی شے چوروں کے لئے کشش رکھتی ہے اسی طرح ہر اس شے پر شیطان کی خصوصی توجہ ہوتی ہے جو اخروی لحاظ سے قیمتی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ راہِ علم پر چلنے والے مسلمان نفس وشیطان کی نگاہوں کا مرکز بن جاتے ہیں۔