علمِ دین
علم ایک ایسی نایاب دولت ہے جو روپے پیسے سے حاصل نہیں ہوسکتی بلکہ یہ تو محض اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ایک خاص کرم ہے وہ جسے چاہے اس دولت سے نواز دے۔
علم دین حاصل کرنے کے بے شمار فضائل وبرکات قرآن وحدیث میں جابجا وارد ہوئے ہیں ۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
فَلَوْلَا نَفَرَ مِنۡ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْہُمْ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوۡا فِی الدِّیْنِ (پ ۱۱، التوبۃ: ۱۲۲)
ترجمۂ کنز الایمان: تو کیوں نہ ہوا کہ ان کے ہر گروہ میں سے ایک جماعت نکلے کہ دین کی سمجھ حاصل کریں ۔
”علم نایاب دولت ہے“ کے چودہ حروف کی نسبت سے علم کے متعلق 14فرامینِ مُصطَفٰے “
پیارے مدنی منو! علم دین سیکھنے والے سعادت مندوں کے کیا کہنے! ان پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لطف وکرم کی بارش رحمت بن کر چھما چھم برستی ہے۔ اس بات کا اندازہ درج ذیل روایات کو پڑھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
(1) … جو شخص حصولِ علم کے لیے کسی راستہ پر چلے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دیتا ہے۔(1)
________________________________
1 - مسلم، کتاب الذکر والدعاء، باب فضل الاجتماع الخ، ص۱۴۴۷، حدیث:۳۸ - (۲۶۹۹)