Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
204 - 329
سنت مؤکدہ :  	 وہ ہے جس کوحضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیشہ کیا ہوالبتہ بیانِ جواز کے لیے کبھی ترک بھی کیاہو۔
سنّتِ غیر مؤکدہ :  	وہ عمل جس پر حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مداومت (ہمیشگی) نہیں فرمائی اور نہ اس کے کرنے کی تاکید فرمائی لیکن شریعت نے اس کے ترک کو ناپسند جانا ہو اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وہ عمل کبھی کیا ہو۔ 
مُستحب :  	وہ کہ نظرِ شرع میں پسند ہو مگرترک پر کچھ ناپسندی نہ ہو، خواہ خود حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے کیا یا اس کی ترغیب دی یا علمائے کرام نے پسند فرمایا اگرچہ احادیث میں اس کا ذکر نہ آیا۔ 
مُباح :  		وہ جس کا کرنا اور نہ کرنا یکساں ہو۔
حرام قطعی :  	جس کی ممانعت دلیل قطعی سے لزوماً ثابت ہو،یہ فرض کا مُقابِل ہے۔
مکروہ تحریمی :  	جس کی ممانعت دلیل ظنی سے لزوماً ثابت ہو،یہ واجب کا مُقابِل ہے۔
اِساءَت :  		وہ ممنوع شرعی جس کی ممانعت کی دلیل حرام اورمکروہ تحریمی جیسی تو نہیں مگر اس کاکرنا برا ہے،یہ سنّتِ مؤکدہ کے مُقابِل ہے۔ 
مکروہِ تنزیھی:  	وہ عمل جسے شریعت ناپسندرکھے مگرعمل پرعذاب کی وعیدنہ ہو۔یہ سنّتِ غیر مؤ کدہ کے مُقابِل ہے۔ 
خلافِ اَولٰی :  		وہ عمل جس کانہ کرنابہترہو۔یہ مستحب کا مُقابِل ہے۔ 
٭…٭…٭