کھانے کھاناوغیرہ۔
بدعت واجب : وہ نیاکام جوشرعاًمنع نہ ہواور اس کے چھوڑنے سے دین میں حرج واقع ہو،جیسے کہ قرآن کے اعراب اوردینی مدارس اورعلمِ نحو وغیرہ پڑھنا۔
تَقلید : کسی کے قول وفعل کواپنے اوپرلازم شرعی جاننا یہ سمجھ کرکہ اس کاکلام اوراس کاکام ہمارے لیے حجت ہے کیونکہ یہ شرعی محقق ہے،جیسے کہ ہم مسائل شرعیہ میں امام اعظم ابوحنیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کاقول وفعل اپنے لیے دلیل سمجھتے ہیں اور دلائل شرعیہ میں نظرنہیں کرتے۔
تَقلید کی مختلف صورتیں :
شرعی مسائل تین طرح کے ہیں : (۱)عقائد: ان میں کسی کی تقلید جائزنہیں (۲)وہ احکام جوصراحۃً قرآن پاک یا حدیث شریف سے ثابت ہوں اجتہاد کوان میں دخل نہیں ، ان میں بھی کسی کی تقلید جائز نہیں جیسے پانچ نمازیں ، نماز کی رکعتیں ، تیس روزے وغیرہ (۳) وہ احکام جو قرآن پاک یا حدیث شریف سے استنباط و اجتہاد کرکے نکالے جائیں ، ان میں غیرمجتہد پرتقلید کرنا واجب ہے۔
٭…٭…٭
فرض : جودلیل قطعی (1)سے ثابت ہویعنی ایسی دلیل جس میں کوئی شُبہ نہ ہو۔
فرض کفایہ : وہ ہوتاہے جوکچھ لوگوں کے ادا کرنے سے سب کی جانب سے ادا ہو جاتا ہے اور کوئی بھی ادا نہ کرے تو سب گناہ گار ہوتے ہیں ۔ جیسے نمازِ جنازہ وغیرہ۔
واجب : وہ جس کی ضرورت دلیل ظنی(2)سے ثابت ہو۔
________________________________
1 - دلیل قطعی وہ ہے جس کاثبوت قرآن پاک یاحدیث متواترہ سے ہو۔ (فتاوی فقیہ ملت، ۱ / ۲۰۴)
2 - دلیل ظنی وہ ہے جس کاثبوت قرآن پاک یاحدیث متواترہ سے نہ ہو، بلکہ احادیث احاد یامحض اقوال ائمہ سے ہو۔
(فتاوی فقیہ ملت ، ج۱، ص۲۰۴)