Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
199 - 329
سے کم عمر ہو تو قربانی جائز نہیں ، زیادہ ہو تو جائز بلکہ افضل ہے۔ ہاں دنبہ یا بھیڑ کا چھ مہینے کا بچہ اگر اتنا بڑا ہو کہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔  (1)
سوال …:  	 قربانی کا جانور کیسا ہونا چاہئے؟ 
جواب …:  	 قربانی کا جانور بے عیب ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ مروی ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  ”چار قسم کے جانور قربانی کے لیے درست نہیں :  )1(… کانا :  جس کا کانا پن ظاہر ہو (2)… بیمار:  جس کی بیماری ظاہر ہو (3)… لنگڑا:  جس کا لنگ ظاہرہو اور)4(… ایسا لاغر جس کی ہڈیوں میں مغز نہ ہو۔“ (2)  البتہ!  اگر تھوڑا سا عیب ہو (مثلاً کان چرا ہوا ہو یا کان میں سوراخ ہو) تو قربانی ہو جائے گی مگر مکروہ ہو گی اور اگر عیب زیادہ ہو تو بالکل نہیں ہو گی۔(3)
قربانی کا طریقہ
سوال …:  	جانور ذبح کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ 
جواب …:  	 جانور ذبح کرنے میں سنت یہ ہے کہ ذبح کرنے والا اور جانور دونوں قبلہ رُو ہوں ، ہمارے علاقہ (یعنی پاک و ہند) میں قبلہ مغرب میں ہے، اس لئے سرِ ذبیحہ (جانور کا سر) جنوب کی طرف ہونا چاہئے تاکہ جانور بائیں (الٹے) پہلو لیٹا ہو اور اس کی پیٹھ مشرق کی طرف ہو، تاکہ اس کا منہ قبلہ کی طرف ہو جائے اور ذبح کرنے والے نے اپنا یا جانور کا منہ قبلہ کی طرف کرنا ترک کیا تو مکروہ ہے۔(4)پھر جانور کی گردن کے قریب پہلو پر اپنا سیدھا پاؤں رکھ کر اَللّٰھُمَّ لَـكَ وَمِنْكَ بِسْمِ اللّٰهِ اَللّٰهُ اَكْبَرُ پڑھ کر تیز چھری سے جلد ذبح کر دیجئے۔



________________________________
1 -    در مختار،   كتاب الاضحية،   ۹ / ۵۳۳
2 -    مسند  احمد،   ۶ / ۴۰۷،   حدیث:۱۸۵۳۵ 
3 -    بہارِ شریعت،   قربانی کے جانور کا بیان،   ۳ / ۳۴۰ ملخصاً 
4 -    فتاویٰ رضویہ،   ۲۰ / ۲۱۶