سوال …: اگر کوئی شخص صاحبِ استطاعت ہو تو کیا اس پر ہر سال حج کرنا فرض ہوگا؟
جواب …: جی نہیں ! حج صرف زندگی میں ایک بار فرض ہے، جب ایک بار حج کر لیا تو اب ہر سال استطاعت کے باوجود فرض نہیں ۔
سوال …: جو شخص استطاعت رکھتے ہوئے حج نہ کرے اس کے متعلق کیا حکم ہے؟
جواب …: جو شخص استطاعت کے باوجود حج نہ کرے اس کے متعلق سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جسے حج کرنے سے نہ حاجتِ ظاہرہ مانع ہوئی، نہ ظالم بادشاہ ، نہ کوئی ایسا مرض جو روک دے پھر بغیر حج کیے مر گیا تو چاہے یہودی ہو کر مرے یا نصرانی ہو کر۔ (1)
سوال …: حج کس سال فرض ہوا؟
جواب …: حج ٭ ہجری میں فرض ہوا، اس کی فرضیت قطعی ہے، جو اس کی فرضیت کا انکار کرے کافر ہے۔
حج کے فضائل پر مبنی احادیثِ مبارکہ
(1)… حج کمزوروں کے لیے جہاد ہے۔(2)
(2)… حج ان گناہوں کو دور کردیتا ہے جو پیشتر ہوئے ہیں ۔(3)
(3)… جس نے حج کیا اور رفث (فحش کلام) نہ کیا اور فسق نہ کیا تو گناہوں سے پاک ہو کر ایسا لوٹا جیسے اُس دن کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔(4)
(4)… حج و عمرہ محتاجی اور گناہوں کو ایسے دور کرتے ہیں ، جیسے بھٹی لوہے اور چاندی اور سونے کے میل کو دور کرتی ہے
________________________________
1 - دارمی، کتاب المناسک، باب من مات ولم یحجّ، ۲ / ۴۵، حدیث: ۱۷۸۵
2 - ابن ماجہ، کتاب الحج، باب الحج جھاد النساء، ۳ / ۴۱۴، حدیث: ۲۹۰۲
3 - مسلم، کتاب الایمان، باب کون الاسلام یھدم ما قبلہ الخ، ص ۷۴، حدیث: ۱۲۱
4 - بخاری، کتاب الحج، باب فضل الحج المبرور، ۱ / ۵۱۲، حدیث: ۱۵۲۱