Brailvi Books

اسلام کی بنیادی باتیں جلد 3
191 - 329
رَبِّهٖ فَصَلّٰىؕ(۱۵) (پ۳۰، الاعلٰی:   ۱۴، ۱۵)
 ترجمۂ کنز الایمان:  بے شک مراد کو پہنچا جوستھرا ہوا اور اپنے رب کا نام لے کرنماز پڑھی۔ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:  یہ آیت صدقۂ فطر کے بارے میں نازل ہوئی(1)
صدقۂ فطرکی ادائیگی کی حکمت
سوال …:  	 صدقہ فطر کیوں دیا جاتا ہے؟
جواب …:  	 حضرت سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے روزوں کو لغو اور بے حیائی کی بات سے پاک کرنے کے لیے اور مسکینوں کو کھلانے کے لیے صدقہ فطر مقرر فرمایا۔(2) حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں :  فطرہ واجب کرنے میں 2حکمتیں ہیں ۔ ایک تو روزہ دار کے روزوں کی کوتاہیوں کی معافی۔ اکثر روزے میں غصہ بڑھ جاتا ہے تو بلاوجہ لڑ پڑتا ہے، کبھی جھوٹ غیبت وغیرہ بھی ہو جاتے ہیں ، رب تَعَالٰی اس فطرے کی برکت سے وہ کوتاہیاں معاف کر دے گا کہ نیکیوں سے گناہ معاف ہوتے ہیں ۔ دوسرے مساکین کی روزی کا انتظام۔(3)
سوال …:  	 کیا صدقۂ فطر کے لئے رمضان کے روزے رکھنا شرط ہے؟
جواب …:  	 جی نہیں !  صدقۂ فطر واجب ہونے کے لئے رمضان کے روزے رکھنا شرط نہیں ، لہٰذا بلاعذر یا کسی عذر مثلاً سفر، مرض یا بڑھاپے کی وجہ سے روزے نہ رکھنے والا بھی فطرہ ادا کرے گا۔(4)
٭…٭…٭



________________________________
1 -    صحیح ابن خزیمہ،   ۴ / ۹۰،   حدیث: ۳۹۷
2 -    ابو داود،   کتاب الزکوۃ،   باب زکوٰۃ الفطر،   ۲ / ۱۵۷،   حدیث: ۱۶۰۹
3 -    مراٰۃ المناجیح،   ۳ / ۴۳
4 -    در محتار،   کتاب الزکوٰۃ،   باب صدقۃ الفطر،   ۳ / ۳۶۷