جواب …: صدقۂ فطر واجب ہے(1)صحیح بخاری میں ہے کہ سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مسلمانوں پر صدقۂ فطر مقرر کیا۔(2)
سوال …: صدقہ فطر کس پر واجب ہے؟
جواب …: صدقہ فطر ہر اس آزاد مسلمان پر واجب ہے جو مالک ِ نصاب ہو اور اس کانصاب حاجتِ اصلیہ سے فارغ ہو۔(3)مالِکِ نِصاب مَرد اپنی طرف سے، اپنے چھوٹے بچّوں کی طرف سے اور اگر کوئی مَجْنُون (یعنی پاگل) اولاد ہے (خواہ بالِغ ہی ہو) تو اُس کی طرف سے بھی صدقۂ فطر ادا کرے۔ ہاں ! اگر وہ بچّہ یامَجْنُون خود صاحِبِ نِصاب ہے تو پھراُ س کے مال میں سے فِطْرہ اداکردے۔(4)
سوال …: صدقۂ فطر کب واجب ہوتا ہے؟
جواب …: صدقۂ فطر عیدکے دن صبح صادق طلوع ہوتے ہی واجب ہو جاتا ہے۔ (5)
سوال …: صدقۂ فطر کب واجب ہوا؟
جواب …: دو ہجری میں رمضان کے روزے فرض ہوئے اور اسی سال عید سے دو دن پہلے صدقۂ فطرکا حکم دیا گیا۔(6)
سوال …: کیا صدقۂ فطر کا ذکر قرآنِ پاک میں بھی ہے؟
جواب …: جی ہاں ! صدقۂ فطر کا ذکر 30ویں پارے کی سورہ اعلیٰ میں کیا گیا ہے۔ چنانچہ مروی ہے کہ مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اس آیت کریمہ:
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰىۙ(۱۴) وَ ذَكَرَ اسْمَ
________________________________
1 - در مختار، کتاب الزکوۃ، باب صدقۃ الفطر، ۳ / ۳۶۲
2 - بخاری، کتاب الزکوٰۃ، باب فرض صدقۃ الفطر، ۱ / ۵۰۷، حديث: ۱۵۰۳ ملخصاً
3 - در مختار، کتاب الزکوۃ، باب صدقۃ الفطر، ۳ / ۳۶۵
4 - عالمگیری، کتاب الزکوۃ، الباب الثامن فی صدقۃ الفطر، ۱ / ۱۹۲
5 - المرجع السابق
6 - در مختار، کتاب الزکوۃ، باب صدقۃ الفطر، ۳ / ۳۶۲