وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓىٕكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ(۱۸) (پ۱۰، التوبۃ: ۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان: زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہکے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تو قریب ہے کہ یہ لوگ ہدایت والوں میں ہوں ۔
(6) … زکوٰۃ دینے والے کا مال کم نہیں ہوتا بلکہ دنیا وآخرت میں بڑھتا ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَهُوَ یُخْلِفُهٗۚ-وَ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ(۳۹) (پ۲۲، سبا: ۳۹)
ترجمۂ کنز الایمان: اور جو چیز تم اللہکی راہ میں خرچ کرو وہ اسکے بدلے اور دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا۔
ایک مقام پر ارشادہوتا ہے:
مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍؕ-وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(۲۶۱)اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَاۤ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّ لَاۤ اَذًىۙ-لَّهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۶۲) (پ۳، البقرۃ: ۲۶۱، ۲۶۲)
ترجمۂ کنز الایمان: ان کی کہاوت جو اپنے مال اللہکی راہ میں خرچ کرتے ہیں اس دانہ کی طرح جس نے اوگائیں سات بالیں ،ہربال میں سودانے اور اللہاس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہے اور اللہوسعت والا علم والا ہے ، وہ جو اپنے مال اللہکی راہ میں خرچ کرتے ہیں ،پھر دیئے پیچھے نہ احسان رکھیں نہ تکلیف دیں ان کا نیگ (انعام) ان کے رب کے پاس ہے اور انہیں نہ کچھ اندیشہ ہو نہ کچھ غم۔
احادیثِ مبارکہ میں مروی چند فوائد
(1) … تمہارے اسلام کا پورا ہونا یہ ہے کہ تم اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا کرو۔(1)
________________________________
1 - الترغیب والترھیب، کتاب الصدقات، باب الترغیب فی اداءِ الزکوٰۃ، ۱ / ۳۰۱ ، حدیث: ۱۲