اے ہمارے پیارے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! ہمیں اپنی پسند کا روزہ دار بنا کر مدینے میں روزہ کی حالت میں اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قدموں میں موت اور جنت البقیع میں مدفن نصیب فرما۔ اٰمین
٭…٭…٭
زکٰوۃ
زکوٰۃ سے مراد
سوال …: زکوٰۃ سے کیا مراد ہے؟
جواب …: زکوٰۃ شریعت کی جانب سے مقرر کردہ اس مال کو کہتے ہیں جسے اپنا ہر طرح کا نفع ختم کرنے کے بعد رضائے الٰہی کے لئے کسی ایسے مسلمان فقیر کی ملکیت میں دے دیا جائے جو نہ تو خود ہاشمی ہو اور نہ ہی کسی ہاشمی کا آزاد کردہ غلام ہو ۔(1)
سوال …: ہاشمی سے کیا مراد ہے؟
جواب …: اس سے مراد حضرت علی وجعفر وعقیل اور حضرت عباس وحارث بن عبدا لمطلب کی اولادیں ہیں ۔ ان کے علا وہ جنہوں نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِعانت (مدد) نہ کی مثلاً ابولہب کہ اگرچہ یہ کافر بھی حضرت عبد المطلب کا بیٹا تھا مگر اس کی اولادیں بنی ہاشم میں شمار نہ ہوں گی۔(2)
سوال …: زکوٰۃ کس پرفرض ہے؟
جواب …: زکوٰۃ دیناہر اُس عاقل، بالغ اور آزاد مسلمان پر فرض ہے جو سال بھر نصاب کا مالک ہو اور وہ نصاب اس کے قبضے میں ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی حاجتِ اصلیہ (یعنی ضروریاتِ زندگی) سے زائد بھی ہو۔ نیز اس
________________________________
1 - در مختار، کتاب الزکوۃ، ۳ / ۲۰۳ تا ۲۰۶ ملتقطاً
2 - بہارشریعت، مال زکوٰۃ کے مصارف، ۱ / ۹۳۱