سحری سے متعلق چند بنیادی باتیں
سوال …: سَحَری سے کیا مراد ہے؟
جواب …: سَحَری سے مراد وہ کھانا ہے جو رمضان المبارک میں رات کے آخری حصے سے صبح صادق تک روزہ رکھنے کے لیے کھایا جاتا ہے۔
سوال …: سَحَری کب تک کر سکتے ہیں ؟
جواب …: سَحَری میں تاخِیر کرنا مُسْتَحَب ہے اور دیر سے سَحَری کرنے میں زیادہ ثواب مِلتا ہے مگر اتنی تاخیر بھی نہ کی جائے کہ صبحِ صادق کا شُبہ ہونے لگے۔
سوال …: سَحَری میں تاخیر سے مُراد کونسا وَقت ہے؟
جواب …: سَحَری میں تاخیر سے مُراد رات کا چھٹا حِصّہ ہے۔
سوال …: رات کا چَھٹا حِصّہ کیسے معلوم ہو سکتا ہے؟
جواب …: غُروبِ آفتاب سے لے کر صُبح صادِق تک رات کہلاتی ہے۔ مَثَلا کسی دِن سات بجے شام کو سُورج غُروب ہوا اورپھر چار بجے صُبحِ صادِق ہوئی تو اِس طرح غروبِ آفتاب سے لے کر صُبحِ صادِق تک جو نو گھنٹے کا وَقفہ گُزرا وہ رات کہلایا۔ اب رات کے اِ ن نو گھنٹوں کے برابر برابر چھ حِصّے کئے تو ہر حِصّہ ڈیڑھ گھنٹے کا ہوا۔ اب رات کے آخِری ڈیڑھ گھنٹے (یعنی اڑھائی بجے تا چار بجے) کے دوران صُبحِ صادِق سے پہلے پہلے جب بھی سَحَری کی، وہ تاخیر سے کرنا ہوا۔
سوال …: جو لوگ صُبحِ صادِق کے بعد فَجر کی اذانیں ہورہی ہوں اور کھاتے پیتے رہیں ان کے متعلق کیا حکم ہے؟
جواب …: وہ لوگ جو صُبحِ صادِق کے بعد فَجر کی اذانیں ہورہی ہوں اور کھاتے پیتے رہیں ان کا روزہ نہیں ہوتا کیونکہ روزہ بند کرنے کا تَعلُّق اَذانِ فَجر سے نہیں بلکہ صبحِ صادق کے شروع ہونے سے ہے، لہٰذا صُبحِ صادِق سے پہلے پہلے کھانا پینا بند کرنا ضَروری ہے۔