جواب …: حضرتِ سَیِّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : روزے کی حقیقت رُکنا ہے اور رُکے رہنے کی بَہُت سی شَرائِط ہیں : مَثَلاً مِعْدے کو کھانے پینے سے رَوکے رکھنا، آنکھ کو شَہوانی نظر سے روکے رکھنا، کان کو غِیبت سُننے، زَبان کو فُضُول اور فِتنہ انگیز باتیں کرنے اور جسم کو حُکْمِ الٰہی کی مخالَفَت سے روکے رکھنا روزہ ہے۔ جب بندہ اِن تمام شرائِط کی پیروی کرے گاتَب وہ حَقیقتاً روزہ دار ہوگا۔(1)
سوال …: حضرتِ سَیِّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے فرمان سے کیا بات معلوم ہوتی ہے؟
جواب …: حضرتِ سَیِّدُنا داتا گنج بخش علی ہجویری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے فرمان سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ہمیں بھوکا پیاسا رہنے کے ساتھ ساتھ جسم کے دیگر اعضاء مثلاً آنکھ، کان، زبان، ہاتھ اور پاؤں کا بھی روزہ رکھنا چاہئے۔
آنکھ کا روزہ
سوال …: آنکھ کے روزے سے کیا مراد ہے؟
جواب …: آنکھ کے روزے سے مراد یہ ہے کہ آنکھ جب بھی اُٹھے تَو صِرف اورصِرف جائِز اُمُور ہی کی طرف اُٹھے۔یعنی اپنی آنکھ کو فلمیں ، ڈرامے دیکھنے، کسی پر برُی نظر ڈالنے سے بچا کر اس سے مسجد و قرآن پاک، والدین و اساتذہ، اپنے پیرومرشد وعلمائے کرام اور مزاراتِ اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام دیکھئے اور زہے نصیب، کرم بالائے کرم ہو جائے تو سبز سبز گنبد کے انوار اور کعبۃ اللہ شریف کے جلوے دیکھئے۔
کان کا روزہ
سوال …: کان کے روزے سے کیا مراد ہے؟
جواب …: کان کے روزے سے مراد یہ ہے کہ صِرف اور صِرف جائِز باتیں سُنئے یعنی اپنے کانوں کو غیبت، چغلی، گانے باجے و موسیقی، فحش لطیفے و بے حیائی کی باتیں اور کان لگا کر کسی کے عیب سننے سے بچا کر اذان و اقامت، تلاوتِ قرآن ونعت، سنتوں بھرابیان و دین کی پیاری پیاری باتیں سنئے۔
________________________________
1 - کشف المحجوب، کشف الحجاب السابع فی الصوم، ص۳۵۴، ۳۵۳ ملتقطاً