روزہ رکھنے و کھولنے کی دعائیں
نیّت دل کے ا رادہ کا نام ہے، زبان سے کہنا شرط نہیں مگر زبان سے کہہ لینا مستحب ہے۔ چنانچہ،
اگر رات میں (یعنی صبحِ صادق سے پہلے) روزے کی نیّت کرے تو یوں کہے:
نَوَیْتُ اَنْ اَصُوْمَ غَدًا لِلّٰہِ تَعَالٰی مِنْ فَرْضِ رَمَضَانَ ھٰذَا
یعنی میں نے نیّت کی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے اس رمضان کا فرض روزہ کل رکھوں گا۔
اور اگر دن میں (یعنی صبحِ صادق کے بعد) نیّت کرے تو یہ کہے:
نَوَیْتُ اَنْ اَصُوْمَ ھٰذَا الْیَوْمَ لِلّٰہِ تَعَالٰی مِنْ فَرْضِ رَمَضَانَ
میں نے نیّت کی کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے آج رمضان کا فرض روزہ رکھوں گا۔(1)
روزے کی حقیقت
سوال …: روزہ داروں کے اعتبار سے روزہ کی کتنی قسمیں ہیں ؟
جواب …: روزہ داروں کے اعتبار سے روزہ کی تین قسمیں ہیں :
(1)… عوام کا روزہ: روزہ کے لُغوی معنٰی ہیں : رُکنا۔ شریعت کی اِصطِلاح میں صُبحِ صادِق سے لے کر غُروبِ آفتاب تک قَصداً کھانے پینے وغیرہ سے رُکے رہنے کو روزہ کہتے ہیں اور یہی عوام یعنی عام لوگوں کا روزہ ہے۔
(2)… خواص کا روزہ: کھانے پینے وغیرہ سے رُکے رہنے کے ساتھ ساتھ جِسم کے تمام اَعْضاء کو بُرائیوں سے روکنا خَوَاص یعنی خاص لوگوں کا روزہ ہے۔
(3)… اَخص الخواص کا روزہ: اپنے آپ کو تمام تَراُمُور سے روک کر صِرف اور صِرف اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف مُتَوَجِّہ ہونا، یہ اَخَصُّ الْخوَاص یعنی خاص الخاص لوگوں کا روزہ ہے۔
سوال …: روزے کی حقیقت کیا ہے؟
________________________________
1 - بہارِ شریعت، ۱ / ۹۶۸